صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
22. ذكر أمان الله جل وعلا من النار من أوى إلى مجلس علم ونيته فيه صحيحة-
- اس بات کا ذکر کہ جو شخص اخلاص کے ساتھ کسی مجلسِ علم میں بیٹھتا ہے، اللہ جل و علا اسے جہنم سے امان عطا فرماتا ہے۔
حدیث نمبر: 86
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي وَاقَدْ اللَّيْثِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ، وَالنَّاسُ مَعَهُ، إِذْ أَقَبْلُ ثَلاثَةُ نَفَرٍ، فَأَقَبْلُ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَهَبَ وَاحِدٌ، فَلَمَّا وَقَفَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَا، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا، وَأَمَّا الآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ، وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَلا أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلاثَةِ: أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَى إِلَى اللَّهِ، فَآوَاهُ الِلَّهِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَاسْتَحْيَى الِلَّهِ مِنْهُ، وَأَمَّا الآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ الِلَّهِ عَنْهُ" .
سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کچھ لوگ آپ کے ساتھ موجود تھے۔ تین آدمی آئے اور ان میں سے دو آدمی آپ کی طرف آ گئے اور ایک شخص چلا گیا، جب وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، تو ان دونوں نے سلام کیا۔ ان دونوں میں سے ایک نے حلقے میں گنجائش دیکھی تو وہاں بیٹھ گیا، جبکہ دوسرا شخص لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا۔ جہاں تک تیسرے شخص کا تعلق تھا، تو وہ منہ پھیر کر چلا گیا۔
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی گفتگو) سے فارغ ہوئے، تو آپ نے ارشاد فرمایا:
”کیا میں تمہیں ان تین لوگوں کے بارے میں بتاؤں؟ ان میں سے ایک شخصاللہ تعالیٰ کی پناہ میں آیا، تواللہ تعالیٰ نے اسے پناہ عطا کی۔ دوسرے شخص نے حیا کی، تواللہ تعالیٰ نے بھی اس سے حیا کی اور تیسرے شخص نے منہ پھیر لیا، تواللہ تعالیٰ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا۔“
[صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 86]
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی گفتگو) سے فارغ ہوئے، تو آپ نے ارشاد فرمایا:
”کیا میں تمہیں ان تین لوگوں کے بارے میں بتاؤں؟ ان میں سے ایک شخصاللہ تعالیٰ کی پناہ میں آیا، تواللہ تعالیٰ نے اسے پناہ عطا کی۔ دوسرے شخص نے حیا کی، تواللہ تعالیٰ نے بھی اس سے حیا کی اور تیسرے شخص نے منہ پھیر لیا، تواللہ تعالیٰ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا۔“
[صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 86]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
الرواة الحديث:
يزيد مولى عقيل ← حارث بن عوف الليثي