صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
21. ذكر بسط الملائكة أجنحتها لطلبة العلم رضا بصنيعهم ذلك-
- فرشتوں کے علم کے طلبہ پر خوش ہو کر اپنے پر بچھانے کا ذکر۔
حدیث نمبر: 85
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ ، قَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ: جِئْتُ أَنْبِطُ الْعِلْمَ، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ يَطْلُبُ الْعِلْمَ، إِلا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا، رِضًا بِمَا يَصْنَعُ" .
زر بیان کرتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے دریافت کیا: تم کیوں آئے؟ تو زر نے جواب دیا: میں علم حاصل کرنے کے لئے آیا ہوں، تو سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اپنے گھر سے علم کے حصول کے لئے نکلتا ہے، تو فرشتے اس شخص کے اس عمل سے راضی ہو کر اپنے پر اس کے لئے بچھا دیتے ہیں۔
[صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 85]
[صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 85]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 62).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن من أجل عاصم وهو ابن أبي النجود.
الرواة الحديث:
زر بن حبيش الأسدي ← صفوان بن عسال المرادي