صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
294. باب الأدعية - ذكر البيان بأن صلاة من صلى على المصطفى صلى الله عليه وسلم من أمته تعرض عليه في قبره
دعاؤں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اس امت میں سے جو شخص مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰة پڑھتا ہے وہ ان کی قبر میں ان تک پیش کی جاتی ہے
حدیث نمبر: 910
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ، وَفِيهِ قُبِضَ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلاةِ فِيهِ، فَإِنَّ صَلاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ". قَالُوا: وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرَمْتَ؟ فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا حَرَّمَ عَلَى الأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَامَنَا" .
سیدنا اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تمہارے دنوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا، جمعے کا دن ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، اسی دن ان کا انتقال ہوا، اسی دن پہلی مرتبہ پھونک ماری جائے گی، جب اسی دن قیامت آئے گی، تو تم اس دن میں مجھ پر بکثرت درود بھیجا کرو تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جائے گا۔“ انہوں نے عرض کی: ہمارا درود آپ کے سامنے کیسے پیش کیا جائے گا، جبکہ آپ بوسیدہ ہو چکے ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین کے لیے یہ بات حرام قرار دی ہے کہ وہ ہمارے (یعنی انبیاء) کے جسم کو کھائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 910]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1733، 1734، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 910، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1034، 8778، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1373، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1678، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1047، 1531، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1613، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1085، 1636، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6075، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16413» «رقم طبعة با وزير 907»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (962 و 1370).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير أبي الأشعث- وهو شراحيل بن آدة- فمن رجال مسلم حسين بن علي هو الجعفي.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 910 in Urdu
شراحيل بن آده الصنعاني ← أوس بن أوس الثقفي