🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
304. باب الأدعية - ذكر البيان بأن رجاء المرء استحبابه الدعاء في الوقت الذي ذكرناه إنما هو في كل ليلة من سنته
دعاؤں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ آدمی کی اس وقت دعا کی مستحب ہونے کی امید ہر رات اس کی سنت کے مطابق ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 920
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَنْزِلُ رَبُّنَا جَلَّ وَعَلا كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ، فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي أَغْفِرُ لَهُ؟" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: صِفَاتُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا لا تُكَيَّفُ، وَلا تُقَاسُ إِلَى صِفَاتِ الْمَخْلُوقِينَ، فَكَمَا أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا مُتَكَلِّمٌ مِنْ غَيْرِ آلَةٍ بَأَسْنَانٍ وَلَهَوَاتٍ وَلِسَانٍ وَشَفَةٍ كَالْمَخْلُوقِينَ، جَلَّ رَبُّنَا وَتَعَالَى عَنْ مِثْلِ هَذَا وَأَشْبَاهِهِ، وَلَمْ يَجُزْ أَنْ يُقَاسَ كَلامُهُ إِلَى كَلامِنَا، لأَنَّ كَلامَ الْمَخْلُوقِينَ لا يُوجَدُ إِلا بِآلاتٍ، وَاللَّهُ جَلَّ وَعَلا يَتَكَلَّمُ كَمَا شَاءَ بِلا آلَةٍ، كَذَلِكَ يَنْزِلُ بِلا آلَةٍ، وَلا تَحَرُّكٍ، وَلا انْتِقَالٍ مِنْ مَكَانٍ إِلَى مَكَانٍ، وَكَذَلِكَ السَّمْعُ وَالْبَصَرُ، فَكَمَا لَمْ يَجُزْ أَنْ يُقَالَ: اللَّهُ يُبْصِرُ كَبَصَرِنَا بِالأَشْفَارِ وَالْحَدَقِ وَالْبَيَاضِ، بَلْ يُبْصِرُ كَيْفَ يَشَاءُ بِلا آلَةٍ، وَيَسْمَعُ مِنْ غَيْرِ أُذُنَيْنِ، وَسِمَاخَيْنِ، وَالْتِوَاءٍ، وَغَضَارِيفَ فِيهَا، بَلْ يَسْمَعُ كَيْفَ يَشَاءُ بِلا آلَةٍ، وَكَذَلِكَ يَنْزِلُ كَيْفَ يَشَاءُ بِلا آلَةٍ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُقَاسَ نُزُولُهُ إِلَى نُزُولِ الْمَخْلُوقِينَ، كَمَا يُكَيَّفُ نُزُولُهُمْ، جَلَّ رَبُّنَا وَتَقَدَّسَ مِنْ أَنْ تُشَبَّهَ صِفَاتُهُ بِشَيْءٍ مِنْ صِفَاتِ الْمَخْلُوقِينَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ہمارا پروردگار ہر رات آسمانِ دنیا کی طرف اس وقت نزول کرتا ہے، جب ایک تہائی آخری رات باقی رہ جاتی ہے، وہ فرماتا ہے: کون مجھ سے دعا مانگتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اس کو عطا کروں؟ کون مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے کہ میں اس کی مغفرت کروں؟ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اللہ تعالیٰ کی صفات کی کیفیت بیان نہیں کی جا سکتی اور اسے مخلوق کی صفات پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، تو اس طرح اللہ تعالیٰ مخلوق کی طرح دانتوں، زبان، ہونٹوں کے کسی آلے کے بغیر کلام کرنے والا ہے۔ ویسے ہمارا پروردگار ان جیسی چیزوں سے بلند و بالاتر ہے، تو یہ بات بھی جائز نہیں ہے کہ اس کے کلام کو ہمارے کلام پر قیاس کیا جائے، کیونکہ مخلوق کا کلام صرف آلات کی مدد سے پایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی آلے کے بغیر جیسے چاہے کلام کرتا ہے۔ اسی طرح وہ کسی آلے کے بغیر نزول کرتا ہے، وہ حرکت نہیں کرتا، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں ہوتا ہے۔ اس کی سماعت اور بصارت کی بھی یہی کیفیت ہے، تو اس طرح یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح دیکھتا ہے، جس طرح ہم آنکھ کی پتلی، اس کی سیاہی اور سفیدی کی مدد سے دیکھتے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کسی آلے کے بغیر جیسے چاہتا ہے ویسے دیکھتا ہے اور وہ کانوں، سوراخوں اور پردوں کے بغیر سنتا ہے، بلکہ وہ کسی آلے کے بغیر جیسے چاہے سنتا ہے اور اسی طرح وہ کسی آلے کے بغیر جیسے چاہے نزول کرتا ہے۔ اس کے نزول کو مخلوق کے نیچے آنے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، جس طرح لوگوں کے نیچے کی طرف آنے کی کیفیت بیان کی جا سکتی ہے۔ ہمارا پروردگار اس چیز سے پاک اور بلند و برتر ہے کہ اس کی صفات کو مخلوق کی صفات میں سے کسی چیز کے مشابہ قرار دیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 920]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1145، 6321، 7494، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 758، ومالك فى (الموطأ) برقم: 724، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1146، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 919، 920، 921،وأبو داود فى (سننه) برقم: 1315، 4733، والترمذي فى (جامعه) برقم: 446، 3498، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1366، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4726، 4727، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7625» «رقم طبعة با وزير 916»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ابن ماجه» (1366): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥سلمان الأغر، أبو عبد الله
Newسلمان الأغر ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سلمان الأغر
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← محمد بن شهاب الزهري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥أحمد بن أبي بكر القرشي، أبو مصعب
Newأحمد بن أبي بكر القرشي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
👤←👥عمر بن سنان المنبجي، أبو بكر
Newعمر بن سنان المنبجي ← أحمد بن أبي بكر القرشي
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 920 in Urdu