صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
312. باب الأدعية - ذكر إباحة الاقتصار على دون ما وصفنا من الاستغفار
دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ ہمارے بیان کردہ استغفار سے کم پر اکتفا کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 928
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَانَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَغْفِرُ رَبَّهُ جَلَّ وَعَلا فِي الأَحْوَالِ عَلَى حَسَبِ مَا وَصَفْنَاهُ، وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، وَلاسْتِغْفَارِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعْنَيَانِ: أَحَدُهُمَا أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا بَعَثَهُ مُعَلِّمًا لِخَلْقِهِ قَوْلا وَفِعْلا، فَكَانَ يُعَلِّمُ أُمَّتَهُ الاسْتِغْفَارَ وَالدَّوَامَ عَلَيْهِ، لِمَا عَلِمَ مِنْ مُقَارَفَتِهَا الْمَآثِمَ فِي الأَحَايِينِ بِاسْتِعْمَالِ الاسْتِغْفَارِ، وَالْمَعْنَى الثَّانِي: أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَغْفِرُ لِنَفْسِهِ عَنْ تَقْصِيرِ الطَّاعَاتِ لا الذُّنُوبِ، لأَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا عَصَمَهُ مِنْ بَيْنِ خَلْقِهِ، وَاسْتَجَابَ لَهُ دُعَاءَهُ عَلَى شَيْطَانِهِ حَتَّى أَسْلَمَ، وَذَاكَ أَنَّ مِنْ خُلُقِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَتَى بِطَاعَةٍ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ دَاوَمَ عَلَيْهَا وَلَمْ يَقْطَعْهَا، فَرُبَّمَا شُغِلَ بِطَاعَةٍ عَنْ طَاعَةٍ حَتَّى فَاتَتْهُ إِحْدَاهُمَا، كَمَا شُغِلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ بِوَفْدِ تَمِيمٍ، حَيْثُ كَانَ يَقْسِمُ فِيهِمْ وَيَحْمِلُهُمْ حَتَّى فَاتَتْهُ الرَّكْعَتَانِ اللَّتَانِ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَصَلاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، ثُمَّ دَاوَمَ عَلَيْهِمَا فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ فِيمَا بَعْدُ، فَكَانَ اسْتِغْفَارُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتَقْصِيرِ طَاعَةٍ أَنْ أَخَّرَهَا عَنْ وَقْتِهَا مِنَ النَّوَافِلِ لاشْتِغَالِهِ بِمِثْلِهَا مِنَ الطَّاعَاتِ الَّتِي كَانَ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ أَوْلَى مِنْ تِلْكَ الَّتِي كَانَ يُوَاظِبُ عَلَيْهَا، لا أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَغْفِرُ مِنْ ذُنُوبٍ يَرْتَكِبُهَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے کسی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ (مرتبہ) یہ کلمہ پڑھتے ہوئے نہیں سنا: ”میںاللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مختلف احوال میں اپنے رب سے مغفرت طلب کیا کرتے تھے کہ جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے حالانکہاللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مغفرت طلب کرنے کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہاللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی قوم کے لئے قول و فعل کے اعتبار سے معلم بنا کر بھیجا تھا، تو آپ اپنی اُمت کو مغفرت طلب کرنے اور اس پر باقاعدگی اختیار کرنے کی دعوت دیتے تھے، کیونکہ آپ یہ بات جانتے تھے کہ آپ کی اُمت گناہوں میں اکثر مبتلا ہوتی رہے گی۔ تو یوں وہ مغفرت طلب کرنے کے فعل پر عمل کرتے رہیں گے۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کے لئے نیکیوں میں کمی کے حوالے سے دعائے مغفرت کرتے تھے۔ آپ گناہوں سے دعائے مغفرت نہیں کرتے تھے، کیونکہاللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کے درمیان آپ کو (گناہوں سے) پاک رکھا ہے، اور آپ کے ساتھ (فطری طور پر پیدا ہونے والے) شیطان کے بارے میں آپ کی دعا کو مستجاب کیا، یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو گیا، تو صورت حال یہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق میں یہ بات شامل ہے۔ آپاللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے متعلق عمل کرتے تھے، تو با قاعدگی سے کرتے تھے۔ آپ اسے منقطع نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ بعض اوقات آپ کسی دوسرے نیک کام کی وجہ سے کسی ایک نیک کام کو انجام نہیں دے پاتے تھے اور وہ ایک نیک کام آپ سے رہ جاتا تھا۔ جس طرح آپ مصروفیت کی وجہ سے ظہر کے بعد کی دو رکعت ادا نہیں کر سکے تھے۔ ‘ کیونکہ تمیم قبیلے کا وفد آیا ہوا تھا اور آپ ان کے درمیان مال تقسیم کر رہے تھے۔ انہیں سواریاں فراہم کر رہے تھے۔ اس وجہ سے ظہر کے بعد والی دو رکعت آپ سے رہ گئی تھیں، تو آپ نے عصر کے بعد ادا کی تھیں۔ پھر آپ اس کے بعد اس وقت میں ان رکعات کو باقاعدگی سے ادا کرتے رہے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مغفرت طلب کرنا نیکی میں اس کمی کے حوالے سے تھا کہ آپ نے کو مصروفیت کی وجہ سے ان کے وقت پر ادا نہیں کیا تھا اور آپ دوسری نیکیوں میں مصروف رہے تھے جو اس وقت میں اس نیکی سے زیادہ ضروری تھیں جن کو آپ باقاعدگی سے سرانجام دیتے تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گناہوں سے مغفرت طلب کرتے تھے جن کا آپ نے ارتکاب کیا ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 928]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مختلف احوال میں اپنے رب سے مغفرت طلب کیا کرتے تھے کہ جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے حالانکہاللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مغفرت طلب کرنے کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہاللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی قوم کے لئے قول و فعل کے اعتبار سے معلم بنا کر بھیجا تھا، تو آپ اپنی اُمت کو مغفرت طلب کرنے اور اس پر باقاعدگی اختیار کرنے کی دعوت دیتے تھے، کیونکہ آپ یہ بات جانتے تھے کہ آپ کی اُمت گناہوں میں اکثر مبتلا ہوتی رہے گی۔ تو یوں وہ مغفرت طلب کرنے کے فعل پر عمل کرتے رہیں گے۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کے لئے نیکیوں میں کمی کے حوالے سے دعائے مغفرت کرتے تھے۔ آپ گناہوں سے دعائے مغفرت نہیں کرتے تھے، کیونکہاللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کے درمیان آپ کو (گناہوں سے) پاک رکھا ہے، اور آپ کے ساتھ (فطری طور پر پیدا ہونے والے) شیطان کے بارے میں آپ کی دعا کو مستجاب کیا، یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو گیا، تو صورت حال یہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق میں یہ بات شامل ہے۔ آپاللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے متعلق عمل کرتے تھے، تو با قاعدگی سے کرتے تھے۔ آپ اسے منقطع نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ بعض اوقات آپ کسی دوسرے نیک کام کی وجہ سے کسی ایک نیک کام کو انجام نہیں دے پاتے تھے اور وہ ایک نیک کام آپ سے رہ جاتا تھا۔ جس طرح آپ مصروفیت کی وجہ سے ظہر کے بعد کی دو رکعت ادا نہیں کر سکے تھے۔ ‘ کیونکہ تمیم قبیلے کا وفد آیا ہوا تھا اور آپ ان کے درمیان مال تقسیم کر رہے تھے۔ انہیں سواریاں فراہم کر رہے تھے۔ اس وجہ سے ظہر کے بعد والی دو رکعت آپ سے رہ گئی تھیں، تو آپ نے عصر کے بعد ادا کی تھیں۔ پھر آپ اس کے بعد اس وقت میں ان رکعات کو باقاعدگی سے ادا کرتے رہے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مغفرت طلب کرنا نیکی میں اس کمی کے حوالے سے تھا کہ آپ نے کو مصروفیت کی وجہ سے ان کے وقت پر ادا نہیں کیا تھا اور آپ دوسری نیکیوں میں مصروف رہے تھے جو اس وقت میں اس نیکی سے زیادہ ضروری تھیں جن کو آپ باقاعدگی سے سرانجام دیتے تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گناہوں سے مغفرت طلب کرتے تھے جن کا آپ نے ارتکاب کیا ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 928]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 924»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح بما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات إلا أن الوليد بن مسلم مدلس وقد عنعن ... وله شواهد كثيرة تقدم بعضها.
الرواة الحديث:
خالد بن الحسين الأموي ← أبو هريرة الدوسي