🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
312. باب الأدعية - ذكر إباحة الاقتصار على دون ما وصفنا من الاستغفار
دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ ہمارے بیان کردہ استغفار سے کم پر اکتفا کرنا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 928
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَانَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَغْفِرُ رَبَّهُ جَلَّ وَعَلا فِي الأَحْوَالِ عَلَى حَسَبِ مَا وَصَفْنَاهُ، وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، وَلاسْتِغْفَارِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعْنَيَانِ: أَحَدُهُمَا أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا بَعَثَهُ مُعَلِّمًا لِخَلْقِهِ قَوْلا وَفِعْلا، فَكَانَ يُعَلِّمُ أُمَّتَهُ الاسْتِغْفَارَ وَالدَّوَامَ عَلَيْهِ، لِمَا عَلِمَ مِنْ مُقَارَفَتِهَا الْمَآثِمَ فِي الأَحَايِينِ بِاسْتِعْمَالِ الاسْتِغْفَارِ، وَالْمَعْنَى الثَّانِي: أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَغْفِرُ لِنَفْسِهِ عَنْ تَقْصِيرِ الطَّاعَاتِ لا الذُّنُوبِ، لأَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا عَصَمَهُ مِنْ بَيْنِ خَلْقِهِ، وَاسْتَجَابَ لَهُ دُعَاءَهُ عَلَى شَيْطَانِهِ حَتَّى أَسْلَمَ، وَذَاكَ أَنَّ مِنْ خُلُقِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَتَى بِطَاعَةٍ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ دَاوَمَ عَلَيْهَا وَلَمْ يَقْطَعْهَا، فَرُبَّمَا شُغِلَ بِطَاعَةٍ عَنْ طَاعَةٍ حَتَّى فَاتَتْهُ إِحْدَاهُمَا، كَمَا شُغِلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ بِوَفْدِ تَمِيمٍ، حَيْثُ كَانَ يَقْسِمُ فِيهِمْ وَيَحْمِلُهُمْ حَتَّى فَاتَتْهُ الرَّكْعَتَانِ اللَّتَانِ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَصَلاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، ثُمَّ دَاوَمَ عَلَيْهِمَا فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ فِيمَا بَعْدُ، فَكَانَ اسْتِغْفَارُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتَقْصِيرِ طَاعَةٍ أَنْ أَخَّرَهَا عَنْ وَقْتِهَا مِنَ النَّوَافِلِ لاشْتِغَالِهِ بِمِثْلِهَا مِنَ الطَّاعَاتِ الَّتِي كَانَ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ أَوْلَى مِنْ تِلْكَ الَّتِي كَانَ يُوَاظِبُ عَلَيْهَا، لا أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَغْفِرُ مِنْ ذُنُوبٍ يَرْتَكِبُهَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ (مرتبہ) کسی کو یہ کلمہ «أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مختلف احوال میں اپنے رب سے مغفرت طلب کیا کرتے تھے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مغفرت طلب کرنے کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی قوم کے لیے قول و فعل کے اعتبار سے معلم بنا کر بھیجا تھا، تو آپ اپنی امت کو مغفرت طلب کرنے اور اس پر باقاعدگی اختیار کرنے کی دعوت دیتے تھے، کیونکہ آپ یہ بات جانتے تھے کہ آپ کی امت اکثر گناہوں میں مبتلا ہوتی رہے گی، تو یوں وہ مغفرت طلب کرنے کے فعل پر عمل کرتے رہیں گے۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کے لیے نیکیوں میں کمی کے حوالے سے دعائے مغفرت کرتے تھے۔ آپ گناہوں کی وجہ سے دعائے مغفرت نہیں کرتے تھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کے درمیان آپ کو (گناہوں سے) پاک رکھا ہے، اور آپ کے ساتھ (فطری طور پر پیدا ہونے والے) شیطان کے بارے میں آپ کی دعا کو مستجاب کیا، یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو گیا؛ تو صورت حال یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ میں یہ بات شامل تھی کہ آپ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے متعلق جو عمل کرتے تھے، تو باقاعدگی سے کرتے تھے۔ آپ اسے منقطع نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ بعض اوقات آپ کسی دوسرے نیک کام کی وجہ سے کسی ایک نیک کام کو انجام نہیں دے پاتے تھے اور وہ ایک نیک کام آپ سے رہ جاتا تھا، جس طرح آپ مصروفیت کی وجہ سے ظہر کے بعد کی دو رکعت ادا نہیں کر سکے تھے، کیونکہ بنو تمیم کا وفد آیا ہوا تھا اور آپ ان کے درمیان مال تقسیم کر رہے تھے اور انہیں سواریاں فراہم کر رہے تھے۔ اس وجہ سے ظہر کے بعد والی دو رکعت آپ سے رہ گئی تھیں، تو آپ نے عصر کے بعد ادا کی تھیں۔ پھر آپ اس کے بعد اس وقت میں ان رکعات کو باقاعدگی سے ادا کرتے رہے تھے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مغفرت طلب کرنا نیکی میں اس کمی کے حوالے سے تھا کہ آپ نے مصروفیت کی وجہ سے انہیں ان کے وقت پر ادا نہیں کیا تھا اور آپ دوسری نیکیوں میں مصروف رہے تھے جو اس وقت میں اس نیکی سے زیادہ ضروری تھیں جن کو آپ باقاعدگی سے سرانجام دیتے تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان گناہوں سے مغفرت طلب کرتے تھے جن کا آپ نے ارتکاب کیا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 928]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 928، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10215، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 1465» «رقم طبعة با وزير 924»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح بما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات إلا أن الوليد بن مسلم مدلس وقد عنعن ... وله شواهد كثيرة تقدم بعضها.


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥خالد بن الحسين الأموي، أبو الجنيد
Newخالد بن الحسين الأموي ← أبو هريرة الدوسي
مقبول
👤←👥إسماعيل بن أبي المهاجر القرشي، أبو عبد الحميد
Newإسماعيل بن أبي المهاجر القرشي ← خالد بن الحسين الأموي
ثقة
👤←👥سعيد بن عبد العزيز التنوخي، أبو محمد، أبو عبد العزيز
Newسعيد بن عبد العزيز التنوخي ← إسماعيل بن أبي المهاجر القرشي
ثقة إمام لكنه اختلط في آخر عمره
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← سعيد بن عبد العزيز التنوخي
ثقة
👤←👥عمرو بن عثمان القرشي، أبو حفص
Newعمرو بن عثمان القرشي ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥عمر بن محمد الهمذاني، أبو حفص
Newعمر بن محمد الهمذاني ← عمرو بن عثمان القرشي
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 928 in Urdu