صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
328. باب الأدعية - ذكر الخبر الدال على أن هذه الألفاظ من هذا النوع أطلقت بألفاظ التمثيل والتشبيه على حسب ما يتعارفه الناس فيما بينهم
دعاؤں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس قسم کے الفاظ تمثیل اور تشبیہ کے طور پر استعمال کیے گئے ہیں جیسا کہ لوگ آپس میں متعارف ہیں
حدیث نمبر: 944
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بِنَسَا، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، كَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَيَقُولُ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي. وَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، كَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَيَقُولُ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلانًا اسْتَسْقَاكَ فَلَمْ تَسْقِهِ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ لَوَجِدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي. يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمَنِي؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، وَكَيْفَ أُطْعِمُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَيَقُولُ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ عَبْدِي فُلانًا اسْتَطْعَمَكَ فَلَمْ تُطْعِمْهُ، أَمَا لَوْ أَنَّكَ أَطْعَمْتَهُ لَوَجِدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے یہ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تھا لیکن تو نے میری عیادت نہیں کی، تو بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میں کیسے تیری عیادت کر سکتا ہوں، تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، تو اللہ تعالیٰ یہ فرمائے گا کہ کیا تمہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا، تو نے اس کی عیادت نہیں کی، تمہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ اگر تم اس کی عیادت کر لیتے، تو اس کا اجر میرے پاس پا لیتے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تجھ سے پینے کے لیے پانی مانگا تھا، تو نے مجھے پینے کے لیے پانی نہیں دیا، تو بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میں تجھے کیسے پینے کے لیے کچھ دے سکتا ہوں، تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تمہیں علم نہیں ہے، میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا، تو تم نے اسے پانی نہیں دیا تھا، کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ اگر تم اسے پانی پلا دیتے، تو اس کا اجر و ثواب میرے پاس پا لیتے۔ اے آدم کے بیٹے! میں نے تم سے کھانے کے لیے مانگا تھا، تو تم نے مجھے کھانے کے لیے نہیں دیا تھا۔ بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میں تجھے کیسے کھلا سکتا ہوں جبکہ تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ میرے فلاں بندے نے تم سے کھانا مانگا تھا، تو تم نے اسے کھانے کے لیے نہیں دیا تھا۔ اگر تم اسے کھانے کے لیے دے دیتے، تو اس کا اجر و ثواب میرے پاس پا لیتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 944]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2569، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 269، 944، 7366، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9365، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 5979، 8722» «رقم طبعة با وزير 940»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م، تقدم (269).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، وقد تقدم برقم (269).
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 944 in Urdu
نفيع بن رافع المدني ← أبو هريرة الدوسي