🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
100. التشهد فى الصلاة
نماز کے تشہد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1001
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حدثنا الإمام أبو بكر محمد بن إسحاق، حدثنا أبو الأزهَر -وكتبتُه من أصله- حدثنا يعقوب بن إبراهيم ابن سعد، حدثني أَبي، عن ابن إسحاق قال: وحدثني -في الصلاة على النبي ﷺ إذا المَرْءُ المسلمُ صلَّى عليه في صلاته- محمدُ بنُ إبراهيم، عن محمد بن عبد الله بن زيد بن عبد ربَّه، عن أبي مسعود عُقْبة بن عمرو قال: أقبل رجلٌ حتى جَلَسَ بين يَدَيْ رسولِ الله ﷺ ونحن عندَه، فقال: يا رسولَ الله، أمَّا السلامُ عليك، فقد عَرَفْناه، فكيف نُصلِّي عليك إذا نحن صلَّينا عليك في صلاتنا، صلَّى اللهُ عليك؟ قال: فصَمَتَ حتى أحبَبْنا أنَّ الرجل لم يسأَلْه، ثم قال:"إذا أنتم صَلَّيتم عليَّ فقولوا: اللهَّم صلِّ على محمدٍ النبيِّ الأُمِّيِّ وعلى آلِ محمدٍ كما صلَّيتَ على إبراهيمَ وعلى آلِ إبراهيم، وبارِكْ على محمدٍ النبيِّ الأُمِّيِّ وعلى آلِ محمدٍ كما باركتَ على إبراهيمَ وعلى آلِ إبراهيم، إنك حَميدٌ مَجِيد" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بذِكْر الصلاة على النبي ﷺ في الصلوات.
سیدنا ابومسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا جبکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی موجود تھے، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ پر سلام (بھیجنے کا طریقہ) تو ہم نے جان لیا ہے، لیکن جب ہم اپنی نمازوں میں آپ پر درود بھیجیں تو آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟ اللہ آپ پر رحمتیں نازل فرمائے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے یہاں تک کہ ہم نے تمنا کی کہ کاش اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال نہ کیا ہوتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم مجھ پر درود بھیجو تو اس طرح کہو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» اے اللہ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کہ نبی امی ہیں اور آپ کی آل پر اپنی رحمتیں نازل فرما جس طرح تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر رحمتیں نازل فرمائیں، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ نبی امی ہیں اور آپ کی آل پر برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر برکتیں نازل فرمائیں، یقیناً تو ہی تعریف کے لائق اور بڑی بزرگی والا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کے ذکر کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1001]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1001 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق، وقد انفرد إبراهيم بن سعد عنه بقوله في هذا الحديث: "إذا نحن صلَّينا عليك في صلاتنا" وإبراهيم ثقة حُجة، وكذا ابنه يعقوب. أبو الأزهر هو أحمد بن الأزهر النيسابوري، محمد بن إبراهيم: هو ابن الحارث التَّيمي.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) حدیث صحیح ہے اور یہ سند "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابراہیم بن سعد نے ابن اسحاق سے "جب ہم آپ پر نماز میں درود پڑھیں" کے الفاظ روایت کرنے میں تفرد کیا ہے مگر وہ خود اور ان کے بیٹے یعقوب ثقہ اور حجت ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (1959) عن أبي بكر محمد بن إسحاق -وهو ابن خزيمة- بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (1959) نے امام ابن خزیمہ کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 28/ (17072) عن يعقوب بن إبراهيم، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (17072/28) نے یعقوب بن ابراہیم کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (981)، والنسائي (9794) من طريقين عن ابن إسحاق، عن محمد بن إبراهيم، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (981) اور نسائی نے ابن اسحاق کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 28/ (17067) و 37/ (22352)، ومسلم (405)، وأبو داود (980)، والترمذي (3220)، والنسائي (9793) و (11359)، وابن حبان (1958) و (1965) من طرق عن مالك، عن نعيم بن عبد الله المُجمِر، عن محمد بن عبد الله بن زيد الأنصاري، به. وليس فيه قوله: "النبي الأمي"، وهو في "الموطأ" رواية يحيى الليثي 1/ 165 - 166.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، مسلم (405)، ابوداؤد، ترمذی اور نسائی نے امام مالک کی سند سے روایت کیا ہے مگر اس میں "النبی الامي" کے الفاظ نہیں ہیں۔
وأخرجه كذلك النسائي (1210) و (9795) من طريق محمد بن سيرين، عن عبد الرحمن بن بشر، عن أبي مسعود.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (1210) نے محمد بن سیرین عن عبدالرحمن بن بشر کی سند سے روایت کیا ہے۔
وقد سُمِّي السائل للنبي ﷺ في بعض طرق هذا الحديث، وهو بشير بن سعد.
📝 (توضیح): اس حدیث کے بعض طرق میں سوال کرنے والے صحابی کا نام "بشیر بن سعد" بتایا گیا ہے۔