المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
101. أدب الدعاء بعد الصلاة
نماز کے بعد دعا کرنے کے آداب۔
حدیث نمبر: 1003
أخبرناه أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الرحمن بن محمد الكِنْدي، حدثنا عَوْن بن سلَّام [حدثنا سَلَّام] (2) بن سُلَيم أبو الأحوَص، عن أبي إسحاق، عن أبي الأحوَص وأبي عُبيدة قالا: قال عبد الله: يتشهَّدُ الرجلُ، ثم يُصلِّي على النبي ﷺ، ثم يَدعُو لنفسه (3) . قد أُسنِدَ هذا الحديثُ عن عبد الله بن مسعود بإسنادٍ صحيح مُهمَل:
ابواحوص اور ابوعبیدہ رحمہما اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آدمی (نماز میں) پہلے تشہد پڑھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے اور اس کے بعد اپنے لیے دعا کرے۔
یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک صحیح سند کے ساتھ مروی ہے لیکن یہ (کتبِ ستہ وغیرہ میں) مذکور نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1003]
یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک صحیح سند کے ساتھ مروی ہے لیکن یہ (کتبِ ستہ وغیرہ میں) مذکور نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1003]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1003 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) ما بين المعقوفين سقط من النسخ الخطية، واستدركناه من "السنن الكبرى" للبيهقي 2/ 153. و"السنن الصغرى" له أيضًا (458)، حيث رواه فيهما عن المصنف بإسناده ومتنه.
🔍 فنی نکتہ: (2) بریکٹ والا حصہ بیہقی کی "السنن الکبریٰ" (153/2) سے لیا گیا ہے کیونکہ مصنف کے نسخوں میں گر گیا تھا۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن أبي دارم شيخ المصنف، وشيخه الكندي لم نتبينه ولم نقف على حاله، لكن روي هذا من غير طريقهما.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) حدیث صحیح ہے، مگر یہ سند ابن ابی دارم (شیخِ حاکم) کی وجہ سے ضعیف ہے اور ان کے شیخ الکندی کے حالات نامعلوم ہیں، تاہم یہ روایت دیگر صحیح طریقوں سے ثابت ہے۔
فقد أخرجه ابن أبي شيبة في "مصنفه" 1/ 297 عن أبي الأحوص -وهو سلّام بن سليم- بهذا الإسناد. وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي وأبو عبيدة: هو ابن عبد الله بن مسعود، وقرينه أبو الأحوص: هو عوف بن مالك الجُشمي، وعبد الله: هو ابن مسعود.
📖 حوالہ / مصدر: ابن ابی شیبہ (297/1) نے اسے ابوالاحوص (سلام بن سلیم) کی سند سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابوعبیدہ بن عبداللہ کا اپنے والد (ابن مسعود) سے سماع ثابت نہیں ہے، لہٰذا سند منقطع ہے۔