🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
110. الدعاء بعد الصلاة
نماز کے بعد دعا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1023
أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب الطُّوسي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن أبي مَسَرَّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَيْوة بن شُرَيح قال: سمعت عُقْبةَ بن مُسلِم التُّجِيبي يقول: حدثني أبو عبد الرحمن الحُبُلي، عن الصُّنَابِحي، عن معاذ بن جبل أنه قال: إنَّ رسول الله ﷺ أَخَذ بيدي يومًا ثم قال:"يا معاذُ، والله إني لَأحبُّك" فقال معاذ: بأبي وأمي يا رسول الله، وأنا والله أحبُّك، فقال:"أُوصِيكَ يا معاذ، لا تَدَعَنَّ في دُبُرِ كلِّ صلاة أن تقول: اللهمَّ أعِنِّي على ذِكْرِك وشُكرِك وحُسْنِ عبادتِك". قال: وأَوصَى بذلك معاذٌ الصُّنابِحيَّ، وأوصى الصُّنابحيُّ أبا عبد الرحمن الحُبُلي، وأَوصى أبو عبد الرحمن عُقْبةَ بن مسلم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1010 - على شرطهما
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے معاذ! اللہ کی قسم میں تم سے ضرور محبت کرتا ہوں۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، اللہ کی قسم میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تم ہر نماز کے آخر میں یہ کلمات کہنا کبھی نہ چھوڑنا: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ» اے اللہ! اپنے ذکر، اپنے شکر اور اپنی بہترین عبادت پر میری مدد فرما۔ پھر معاذ رضی اللہ عنہ نے اس کی وصیت صنابحی کو کی، صنابحی نے ابو عبدالرحمن حبلی کو اور ابو عبدالرحمن نے عقبہ بن مسلم کو اس کی وصیت فرمائی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1023]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1023 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو عبد الرحمن الحبلي: هو عبد الله بن يزيد المَعَافري، والصُّنابحي: هو أبو عبد الله عبد الرحمن بن عُسيلة.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابوعبدالرحمن الحبلی سے مراد عبداللہ بن یزید اور صنابحی سے مراد ابوعبداللہ عبدالرحمن بن عسیلہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 36/ (22119)، وأبو داود (1522)، والنسائي (9857)، وابن حبان (2020) من طريق عبد الله بن يزيد المقرئ، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (22119/36)، ابوداؤد (1522)، نسائی (9857) اور ابن حبان (2020) نے عبداللہ بن یزید المقرئ کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (22126)، والنسائي (1227) من طريقين عن حيوة بن شريح، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (22126) اور نسائی نے حیوہ بن شریح کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي مكررًا برقم (5275).
🔁 تکرار: یہ آگے نمبر (5275) پر دوبارہ آئے گی۔
وانظر حديث أبي هريرة الآتي برقم (1859).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت ابوہریرہ کی حدیث آگے نمبر (1859) پر ملاحظہ فرمائیں۔