🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. كتاب السهو
سہو (بھول چوک) کے احکام کی کتاب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1217
أخبرني محمد بن القاسم بن عبد الرحمن العَتَكي، حدثنا إسماعيل بن قُتَيبة السُّلَمي وأحمد بن محمد بن شِيرِين (1) الجُرْجاني، قالا: حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حدثنا أبو خالد الأحمر، عن ابن عَجْلان، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن أبي سعيد الخدريِّ قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا شكَّ أحدُكم في صلاته، فلْيُلْقِ الشَّكَّ ولْيَبْنِ على اليَقين، فإن استيقَنَ التَّمام سَجَدَ سجدتين، فإن كانت صلاتُه تامّةً كانت الركعة نافلةً والسجدتان، وإن كانت ناقصةً كانت الركعةُ تمامًا لصلاته، والسجدتانِ تُرْغِمان أنفَ الشيطان" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے (کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں) تو وہ شک کو چھوڑ دے اور یقین پر بنیاد رکھے (یعنی کم پر)، پھر جب اسے تکمیل کا یقین ہو جائے تو دو سجدے کرے، پس اگر اس کی نماز پوری تھی تو یہ ایک رکعت اور دو سجدے نفل ہو جائیں گے، اور اگر نماز میں کمی تھی تو وہ رکعت اس کی نماز کی تکمیل کر دے گی اور وہ دو سجدے شیطان کی ذلت کا باعث ہوں گے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب السهو/حدیث: 1217]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1217 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
وانظر ما سيأتي برقم (1225).
🔁 تکرار: یہ آگے نمبر (1225) پر دوبارہ آئے گی۔
ولفقه الحديث انظر التعليق على حديث ابن مسعود في "مسند أحمد" 6/ (3602).
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: اس حدیث کی فقہی باریکیوں کے لیے مسند احمد (3602/6) میں ابن مسعود کی حدیث پر ہمارا حاشیہ دیکھیں۔
(1) كذا وقع اسمه في "المستدرك" أحمد بن محمد بن شيرين، وهو قلب، صوابه محمد بن أحمد، وهو محمد بن أحمد بن يحيى بن شيرين الجرجاني، كنيته أبو أحمد، يروي عن علي بن الجعد ويحيى بن عبد الله بن بكير وطبقتهم، روى عنه محمد بن القاسم العتكي. له ترجمة في "تاريخ جرجان" للسهمي (640) ص 386، و"تاريخ الإسلام" للذهبي 6/ 796، وأورده ابن ماكولا في "تهذيب مستمر الأوهام" ص 281 باب سيرين وشيرين، وذكر أنَّ الخطيب سماه: أحمد بن محمد بن شيرين الخراساني، وتعقبه بقوله: وفي هذا وهمان، أحدهما: أنه قال: أحمد بن محمد، وإنما هو محمد بن أحمد، والثاني: أنه جعله خراسانيًا، وهو جرجاني. وانظر "الإكمال" لابن ماكولا 4/ 411، و"توضيح المشتبه" لابن ناصر الدين 5/ 240.
🔍 فنی نکتہ: (1) نسخے میں نام الٹ گیا تھا، درست "محمد بن احمد بن یحییٰ بن شیرین الجرجانی" ہے۔ خطیب بغدادی نے بھی اسے جرجانی کے بجائے خراسانی کہہ کر وہم کیا تھا۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل ابن عجلان - واسمه: محمد - والراوي عنه أبي خالد الأحمر - واسمه: سليمان بن حيان - وقد توبعا.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) "حدیث صحیح" ہے اور محمد بن عجلان کی وجہ سے سند قوی ہے، ابوخالد الاحمر کی متابعت بھی موجود ہے۔
وأخرجه أبو داود (1024)، وابن ماجه (1210) عن أبي كريب محمد بن العلاء، وابن حبان (2664) و (2667) من طريق عبد الله بن سعيد الكندي أبي سعيد الأشج، كلاهما عن أبي خالد الأحمر، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1024)، ابن ماجہ (1210) اور ابن حبان نے ابوخالد الاحمر کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (588) و (1162) من طريق خالد بن الحارث، عن ابن عجلان، به. ¤ ¤ وأخرجه بنحوه أحمد 18/ (11689) و (11782) و (11794) و (11830)، ومسلم (571)، والنسائي (589) و (1163)، وابن حبان (2663) و (2669) من طرق عن زيد بن أسلم، به. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی نے خالد بن حارث کے طریق سے روایت کیا ہے۔ حاکم کا استدراک یہاں بھی سہو ہے کیونکہ یہ مسلم (571) اور نسائی میں پہلے سے موجود ہے۔
وأخرجه أبو داود (1026) عن القعنبي، عن مالك، و (1027) عن قتيبة، عن يعقوب بن عبد الرحمن القاريّ، كلاهما عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، أنَّ رسول الله ﷺ … فذكره مرسلًا. وقال أبو داود بإثرهما: وكذلك رواه ابن وهب عن مالك وحفص بن ميسرة وداود بن قيس وهاشم بن سعد، إلّا أنَّ هشامًا بلغ به أبا سعيد الخدري. قال ابن عبد البر في "التمهيد" 5/ 19: والحديث متصل مسند صحيح، لا يضره تقصير من قصر به في اتصاله، لأنَّ الذين وصلوه حفاظ مقبولة زيادتهم، وبالله التوفيق.
⚠️ سندی اختلاف: امام مالک اور داؤد بن قیس نے اسے "مرسل" روایت کیا ہے، مگر ابن عبدالبر کے مطابق چونکہ حفاظ نے اسے متصل (موصول) بیان کیا ہے، اس لیے ان کی زیادتی مقبول ہے اور حدیث صحیح ہے۔