المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. صلاة الخوف ركعة ركعة
نمازِ خوف ایک ایک رکعت کر کے ادا کرنا۔
حدیث نمبر: 1261
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أَسِيد بن عاصم، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان. وأخبرنا إبراهيم بن محمد بن حاتم الزاهد، أخبرنا محمد بن إسحاق الصَّنعاني، حدثنا محمد بن جُعْشُم، عن سفيان. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثني أبو بكر بن أبي الجَهْم، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ صلَّى بذِي قَرَدٍ صلاةَ الخوف ركعةً ركعةً ولم يَقضُوا (1) . هذا شاهد للحديث الذي قبله، وهو صحيح الإسناد.
عبیداللہ بن عبداللہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قرد کے مقام پر نماز خوف ایک ایک رکعت پڑھائی اور انہوں نے قضا نہیں کی۔“
یہ پچھلی حدیث کے لیے شاہد ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1261]
یہ پچھلی حدیث کے لیے شاہد ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1261]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1261 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. يحيى: هو ابن سعيد القطان، وسفيان: هو الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه النسائي (520) و (1934)، وابن حبان (2871) من طريق محمد بن بشار، عن يحيى بن سعيد القطان، بهذا الإسناد. بأطول ممّا هنا بنحو لفظ الحديث الآتي بعده.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (1934) اور ابن حبان (2871) نے محمد بن بشار عن یحییٰ القطان کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه مطولًا كذلك أحمد 3/ (2063) و 35/ (21592)، و 38/ (23267) عن وكيع بن الجراح، و 5/ (3364) عن عبد الرحمن بن مهدي، كلاهما عن سفيان الثوري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے تفصیلاً احمد (2063/3 وغیرہ) نے وکیع اور ابن مہدی کی سندوں سے سفیان ثوری کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرج البخاري (944)، والنسائي (1935) من طريق الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس قال: قام النبي ﷺ وقام الناس معه، فكبَّر وكبَّروا معه، وركع وركع ناسٌ منهم، ثم سجد وسجدوا معه، ثم قام للثانية، فقام الذين سجدوا وحرسوا إخوانهم، وأتت الطائفة الأخرى فركعوا وسجدوا معه، والناس كلهم في صلاة، ولكن يحرس بعضهم بعضًا.
📖 حوالہ / مصدر: بخاری (944) اور نسائی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے لوگوں کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی؛ ایک جماعت نے آپ ﷺ کے ساتھ رکوع و سجدہ کیا جبکہ دوسری جماعت پہرہ دیتی رہی، پھر انہوں نے جگہ بدلی۔
وأخرج أحمد 4/ (2382)، والنسائي (1936) من طريق عكرمة، عن ابن عباس قال: ما كانت صلاة الخوف إلّا كصلاة أحراسكم هؤلاء اليوم خلف أئمتكم، إلّا أنها كانت عُقَبًا، قامت طائفة وهم جميع مع رسول الله ﷺ وسجدت معه طائفة … فذكر معنى حديث البخاري.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (2382/4) اور نسائی نے عکرمہ عن ابن عباس کی سند سے روایت کیا کہ نمازِ خوف باری باری (عُقَبًا) پڑھی جاتی تھی۔
وذو قَرَد: ماء على ليلتين من المدينة، بينها وبين خيبر. "معجم البلدان" 4/ 321.
📝 (توضیح): "ذو قَرَد"؛ مدینہ سے دو راتوں کی مسافت پر ایک چشمہ ہے جو خیبر کے راستے میں واقع ہے۔