المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. صَلَاةُ الْخَوْفِ رَكْعَةً رَكْعَةً
نمازِ خوف ایک ایک رکعت کر کے ادا کرنا۔
حدیث نمبر: 1260
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أَسِيد بن عاصم، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي - واللفظ له - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، حدثني الأشعث بن سُلَيم، عن الأسود بن هلال، عن ثعلبة بن زَهْدَم قال: كنا مع سعيد بن العاص بطَبَرِسْتان فقال: أيُّكم صلَّى مع رسول الله ﷺ صلاةَ الخوف؟ فقال حذيفة: أنا، فقام حذيفةُ فصفَّ الناسَ خَلْفَه، وصفًّا موازيَ العدو، فصلى بالذين خَلْفَه ركعةً، ثم انصرف هؤلاء مكانَ هؤلاء، وجاء أولئك فصلى بهم ركعةً ولم يَقضُوا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا.
اسود بن ہلال، ثعلبہ بن زہدم سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم طبرستان میں سعید بن عاص کے ساتھ تھے، تو انہوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے؟ تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے۔“ پس سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اپنے پیچھے لوگوں کی ایک صف بنائی، اور ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی کی، پھر آپ نے اپنے پیچھے والوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ ان (دوسرے) لوگوں کی جگہ چلے گئے، اور وہ (دوسرے) آ گئے تو آپ نے انہیں (بھی) ایک رکعت پڑھائی اور انہوں نے (بقیہ نماز) قضا نہیں کی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ/حدیث: 1260]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ/حدیث: 1260]
حدیث نمبر: 1261
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أَسِيد بن عاصم، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان. وأخبرنا إبراهيم بن محمد بن حاتم الزاهد، أخبرنا محمد بن إسحاق الصَّنعاني، حدثنا محمد بن جُعْشُم، عن سفيان. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثني أبو بكر بن أبي الجَهْم، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ صلَّى بذِي قَرَدٍ صلاةَ الخوف ركعةً ركعةً ولم يَقضُوا (1) . هذا شاهد للحديث الذي قبله، وهو صحيح الإسناد.
عبیداللہ بن عبداللہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قرد کے مقام پر نماز خوف ایک ایک رکعت پڑھائی اور انہوں نے قضا نہیں کی۔“
یہ پچھلی حدیث کے لیے شاہد ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ/حدیث: 1261]
یہ پچھلی حدیث کے لیے شاہد ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ/حدیث: 1261]
حدیث نمبر: 1262
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا أبو حذيفة، حدثنا سفيان. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يحيى، عن سفيان، عن أبي بكر بن أبي الجَهْم، عن عبيد الله بن عبد الله بن عُتْبة، عن ابن عباس قال: صلَّى رسول الله ﷺ صلاةَ الخوف بذي قَرَدٍ، فصفَّ خَلفَه صفًّا، وصفًّا موازيَ العدو، فصلَّى معه ركعةً ثم ذهبوا إلى مَصافِّ أولئك، وجاء أولئك إلى مَصافِّ هؤلاء، فصلَّوا مع النبي ﷺ ركعةً ثم سلَّم عليهم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الألفاظ.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الألفاظ.
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قرد کے مقام پر نماز خوف پڑھائی، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے ایک صف بنائی اور ایک صف دشمن کے سامنے بنائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر وہ ان (دوسرے) لوگوں کی جگہ چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ آ گئے، پس انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رکعت پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام پھیر دیا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ/حدیث: 1262]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ/حدیث: 1262]
حدیث نمبر: 1263
أخبرني أبو عمرو بن أبي جعفر المقرئ، حدثنا عبد الله بن محمد (1) ، حدثنا إسحاقُ بن إبراهيم، أخبرنا عقبة بن خالد السَّكُوني، حدثنا موسى بن محمد بن إبراهيم، عن أبيه، عن سَلَمة بن الأكوع: أنه سأل رسولَ الله ﷺ عن الصلاة في القوس، فقال:"صَلِّ في القَوس، واطرَحِ القَرَن" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد (3) إن كان محمد بن إبراهيم التَّيمي سمع من سَلَمة بن الأكوع، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد (3) إن كان محمد بن إبراهيم التَّيمي سمع من سَلَمة بن الأكوع، ولم يُخرجاه.
موسیٰ بن محمد بن ابراہیم اپنے والد سے اور وہ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کمان (لٹکا کر) نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کمان میں نماز پڑھ لو اور ترکش کو اتار دو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اگر محمد بن ابراہیم تیمی نے اسے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے سنا ہو، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ/حدیث: 1263]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اگر محمد بن ابراہیم تیمی نے اسے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے سنا ہو، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ/حدیث: 1263]
حدیث نمبر: 1264
أخبرنا عبد الرحمن بن حمدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس الرازي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا يحيى بن أيوب، حدثني يزيد بن الهاد، حدثني شُرَحْبيل بن سعد، عن جابر بن عبد الله، عن رسول الله ﷺ في صلاة الخوف قال: قام رسول الله ﷺ وطائفةٌ من خَلْفِه، وطائفةٌ من وراء الطائفة التي خَلْفَ رسول الله ﷺ قعودٌ، وجوهُهم كلُّهم إلى رسول الله ﷺ، فكبَّر رسولُ الله ﷺ، فكبَّرت الطائفتان، فركع فركعت الطائفةُ التي خَلْفَه، والآخرون قعودٌ، ثم سجد فسجدوا أيضًا، والآخرون قعودٌ، ثم قام فقاموا، ونكَصُوا خَلْفَه حتى كانوا مكانَ أصحابهم قعودًا، وأتت الطائفةُ الأخرى فصلى بهم ركعةً وسجدتين ثم سلَّم، والآخرون قعودٌ، ثم سلَّم، فقامت الطائفتان كلتاهما فصلَّوا لأنفسهم ركعةً وسجدتين، ركعةً وسجدتين (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وقد احتجَّا بجميع رواته غيرَ شُرَحْبيل وهو تابعيٌّ مدنيٌّ غيرُ متّهم (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وقد احتجَّا بجميع رواته غيرَ شُرَحْبيل وهو تابعيٌّ مدنيٌّ غيرُ متّهم (2) .
شرحبیل بن سعد، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز خوف کے بارے میں فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہوا، اور ایک گروہ اس گروہ کے پیچھے بیٹھا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا، ان سب کے چہرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو دونوں گروہوں نے تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے والے گروہ نے رکوع کیا جبکہ دوسرے لوگ بیٹھے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو انہوں نے بھی سجدہ کیا جبکہ دوسرے لوگ بیٹھے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو وہ (پہلا گروہ) کھڑا ہوا اور وہ پیچھے ہٹ کر اپنے ساتھیوں کی جگہ بیٹھ گئے، اور دوسرا گروہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک رکعت اور دو سجدے کروائے پھر سلام پھیر دیا جبکہ دوسرے لوگ بیٹھے رہے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا تو دونوں گروہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنے لیے ایک رکعت اور دو سجدے، ایک رکعت اور دو سجدے ادا کیے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، حالانکہ انہوں نے شرحبیل کے علاوہ اس کے تمام راویوں سے حجت پکڑی ہے، اور شرحبیل مدنی تابعی ہیں اور ان پر کوئی تہمت نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ/حدیث: 1264]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، حالانکہ انہوں نے شرحبیل کے علاوہ اس کے تمام راویوں سے حجت پکڑی ہے، اور شرحبیل مدنی تابعی ہیں اور ان پر کوئی تہمت نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ/حدیث: 1264]
حدیث نمبر: 1265
حدثنا أبو الحسين أحمد بن عثمان بن يحيى المقرئ ببغداد، حدثنا العباس بن محمد بن حاتم الدُّوري، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثنا أبي، عن ابن إسحاق، حدثني محمد بن جعفر بن الزُّبير، عن عُروة، عن عائشة قالت: صلَّى رسول الله ﷺ صلاة الخوف، قالت: فصَدَعَ رَسولُ الله ﷺ الناسَ صَدْعَتَين، فصفَّت طائفة وراءَه، وقامت طائفة وِجاهَ العدوّ، قالت: فكبَّر رسولُ الله ﷺ وكبَّرت الطائفةُ الذين صفُّوا خلفَه، ثم رَكَع وركعوا، ثم سَجَد وسجدوا، ثم رفع رأسه فرفعوا، ثم مَكَثَ رسول الله ﷺ جالسًا وسجدوا لأنفسهم السجدةَ الثانية، ثم قاموا، ثم نَكَصُوا على أعقابهم يمشون القَهْقَرى حتى قاموا من ورائهم، وأقبلت الطائفةُ الأخرى فصفُّوا خلفَ رسول الله ﷺ، فكبَّروا ثم ركعوا لأنفسهم، ثم سَجَدَ رسول الله ﷺ سجدتَه الثانيةَ فسجدوا معه، ثم قامَ رسول الله ﷺ في ركعتِه وسجدوا لأنفسهم السجدةَ الثانية، ثم قامتِ الطائفتانِ جميعًا فصفُّوا خلفَ رسول الله ﷺ، فركع بهم ركعةً فركعوا جميعًا، ثم سجد فسجدوا جميعًا، ثم رفع رأسه ورفعوا معه، كلُّ ذلك من رسول الله ﷺ سريعًا جدًّا لا يَألُو أن يخفِّف ما استطاع، ثم سلَّم رسول الله ﷺ فسلَّموا، ثم قام رسول الله ﷺ وقد شَرَكَه الناسُ في صلاته كلِّها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وهو أتمُّ حديثٍ وأشفاهُ في صلاة الخوف.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وهو أتمُّ حديثٍ وأشفاهُ في صلاة الخوف.
عروہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا، ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی اور ایک گروہ دشمن کے سامنے کھڑا ہوا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنانے والے گروہ نے تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور انہوں نے رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور انہوں نے سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا تو انہوں نے سر اٹھایا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہے اور انہوں نے اپنے لیے دوسرا سجدہ کیا، پھر وہ کھڑے ہوئے، پھر وہ الٹے قدموں پیچھے ہٹتے ہوئے چلے یہاں تک کہ وہ ان کے پیچھے جا کھڑے ہوئے، اور دوسرا گروہ آیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی، پھر انہوں نے تکبیر کہی پھر اپنے لیے رکوع کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دوسرا سجدہ کیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی (دوسری) رکعت کے لیے کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنے لیے دوسرا سجدہ کیا، پھر دونوں گروہ کھڑے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھائی اور ان سب نے اکٹھے رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو ان سب نے اکٹھے سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سر اٹھایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب کچھ بہت جلدی کیا اور جتنا ہو سکا مختصر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو انہوں نے سلام پھیرا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری نماز میں شریک رہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ نماز خوف کے بارے میں سب سے مکمل اور تسلی بخش حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ/حدیث: 1265]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ نماز خوف کے بارے میں سب سے مکمل اور تسلی بخش حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ/حدیث: 1265]