المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. صلاة الخوف ركعة ركعة
نمازِ خوف ایک ایک رکعت کر کے ادا کرنا۔
حدیث نمبر: 1264
أخبرنا عبد الرحمن بن حمدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس الرازي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا يحيى بن أيوب، حدثني يزيد بن الهاد، حدثني شُرَحْبيل بن سعد، عن جابر بن عبد الله، عن رسول الله ﷺ في صلاة الخوف قال: قام رسول الله ﷺ وطائفةٌ من خَلْفِه، وطائفةٌ من وراء الطائفة التي خَلْفَ رسول الله ﷺ قعودٌ، وجوهُهم كلُّهم إلى رسول الله ﷺ، فكبَّر رسولُ الله ﷺ، فكبَّرت الطائفتان، فركع فركعت الطائفةُ التي خَلْفَه، والآخرون قعودٌ، ثم سجد فسجدوا أيضًا، والآخرون قعودٌ، ثم قام فقاموا، ونكَصُوا خَلْفَه حتى كانوا مكانَ أصحابهم قعودًا، وأتت الطائفةُ الأخرى فصلى بهم ركعةً وسجدتين ثم سلَّم، والآخرون قعودٌ، ثم سلَّم، فقامت الطائفتان كلتاهما فصلَّوا لأنفسهم ركعةً وسجدتين، ركعةً وسجدتين (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وقد احتجَّا بجميع رواته غيرَ شُرَحْبيل وهو تابعيٌّ مدنيٌّ غيرُ متّهم (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وقد احتجَّا بجميع رواته غيرَ شُرَحْبيل وهو تابعيٌّ مدنيٌّ غيرُ متّهم (2) .
شرحبیل بن سعد، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز خوف کے بارے میں فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہوا، اور ایک گروہ اس گروہ کے پیچھے بیٹھا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا، ان سب کے چہرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو دونوں گروہوں نے تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے والے گروہ نے رکوع کیا جبکہ دوسرے لوگ بیٹھے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو انہوں نے بھی سجدہ کیا جبکہ دوسرے لوگ بیٹھے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو وہ (پہلا گروہ) کھڑا ہوا اور وہ پیچھے ہٹ کر اپنے ساتھیوں کی جگہ بیٹھ گئے، اور دوسرا گروہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک رکعت اور دو سجدے کروائے پھر سلام پھیر دیا جبکہ دوسرے لوگ بیٹھے رہے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا تو دونوں گروہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنے لیے ایک رکعت اور دو سجدے، ایک رکعت اور دو سجدے ادا کیے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، حالانکہ انہوں نے شرحبیل کے علاوہ اس کے تمام راویوں سے حجت پکڑی ہے، اور شرحبیل مدنی تابعی ہیں اور ان پر کوئی تہمت نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1264]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، حالانکہ انہوں نے شرحبیل کے علاوہ اس کے تمام راویوں سے حجت پکڑی ہے، اور شرحبیل مدنی تابعی ہیں اور ان پر کوئی تہمت نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1264]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1264 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد أبي سعد المدني.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) شرحبیل بن سعد کے ضعف کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (1351)، وابن المنذر في "الأوسط" (2338)، والطحاوي في "شرح معاني الآثار" 1/ 318، وابن حبان (2888) من طرق عن سعيد بن أبي مريم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (1351)، ابن المنذر، طحاوی اور ابن حبان (2888) نے سعید بن ابی مریم کی سند سے روایت کیا ہے۔
قال الطحاوي: وهذا الحديث عندنا من المحال الذي لا يجوز كونه، لأنَّ فيه أنهم دخلوا في الصلاة وهم قعود، وقد أجمع المسلمون أنَّ رجلًا لو افتتح الصلاة قاعدًا، ثم قام فأتمها قائمًا، ولا عذر له في شيء من ذلك، أنَّ صلاته باطلة، فكان الدخول لا يجوز إلّا على ما يكون عليه الركوع والسجود، فاستحال أن يكون الذين كانوا خلف النبي ﷺ في الصف الثاني دخلوا في الصلاة وهم قعود، فثبت عن جابر بن عبد الله ما رويناه عنه عن النبي ﷺ في غير هذا الحديث. قلنا: وقد اختلف الرواة عن جابر في كيفية صلاة الخوف وعدد ركعاتها لكل من الإمام والمأمومين، انظر تعليقنا على "مسند أحمد" 22/ (14180)، وانظر "شرح السنة" للبغوي 4/ 280 - 286، و"زاد المعاد" 1/ 529 - 532.
⚠️ علّت / فنی نکتہ: امام طحاوی کے مطابق یہ روایت عقل و نقل کے خلاف (محال) ہے، کیونکہ اس میں مقتدیوں کے بیٹھ کر نماز شروع کرنے کا ذکر ہے جو کہ باطل ہے۔ حضرت جابر سے دیگر صحیح روایات اس کے خلاف مروی ہیں۔
(2) تعقبه الذهبي في "التلخيص" بقوله: شرحبيل، قال ابن أبي ذئب: كان متهمًا، وقال الدارقطني: ضعيف.
⚖️ درجۂ حدیث: علامہ ذہبی نے فرمایا کہ شرحبیل پر ابن ابی ذئب نے "متہم" (الزامِ جھوٹ) ہونے کی جرح کی ہے اور دارقطنی نے اسے ضعیف کہا ہے۔