المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
32. كان إذا رأى جنازة قام حتى يمر بها
رسولُ اللہ ﷺ جب جنازہ دیکھتے تو اس کے گزر جانے تک کھڑے رہتے تھے۔
حدیث نمبر: 1336
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرُو، حدثنا أبو بكر محمد بن عيسى الطَّرَسُوسي، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، حدثني رَبِيعةُ بن سَيف المَعافِري، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، أنه قال: سأل رجلٌ رسول الله ﷺ، فقال: يا رسول الله، تمرُّ بنا جنازةُ الكافر، فنقومُ لها؟ قال:"نَعَم، قُوموا لها، فإنكم لستُم تقومونَ لها، إنما تقومونَ إعظامًا للذي يَقبِضُ النفوسَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس سے کافر کا جنازہ گزرتا ہے تو کیا ہم اس کے لیے کھڑے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اس کے لیے کھڑے ہو جایا کرو، کیونکہ تم اس (میت) کے لیے کھڑے نہیں ہوتے بلکہ اس ہستی کی عظمت و بڑائی کے لیے کھڑے ہوتے ہو جو روحیں قبض کرتی ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1336]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1336]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1336 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ربيعة بن سيف المعافري، قال البخاري وابن يونس: عنده مناكير، وضعفه الأزدي، والنسائي في "المجتبى" 4/ 27، وقال مرة ليس به بأس، وذكره ابن حبان في "الثقات" وقال: يخطئ كثيرًا. أبو عبد الرحمن الحبلي: هو عبد الله بن يزيد المعافري.¤ ¤ وأخرجه أحمد 11/ (6573)، وابن حبان (3053) من طريق أبي عبد الرحمن عبد الله بن يزيد المقرئ، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) "صحیح لغیرہ" ہے مگر یہ سند ربیعہ بن سیف کی وجہ سے ضعیف ہے کیونکہ ان کی روایات منکر ہوتی ہیں۔ ابن حبان نے انہیں ثقات میں ذکر کیا مگر کثیر الخطاء کہا۔
ويشهد له أحاديث الباب السابقة واللاحقة.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب کی دیگر روایات اس کی تائید کرتی ہیں۔