المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
32. كان إذا رأى جنازة قام حتى يمر بها
رسولُ اللہ ﷺ جب جنازہ دیکھتے تو اس کے گزر جانے تک کھڑے رہتے تھے۔
حدیث نمبر: 1337
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيَّاري، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا أبو عمّار، حدثني النَّضْر بن شُمَيل، حدثنا حمَاد بن سَلَمة، عن قتادة، عن أنس بن مالك: أنَّ جنازةَ يهوديٍّ مرَّتْ برسول الله ﷺ، فقام، فقالوا: يا رسول الله، إنها جنازة يهوديٍّ، فقال:"إنَّما قمتُ للملائكة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، غيرَ أنهما قد اتَّفقا على إخراج حديث عُبيد الله بن مِقْسَم عن جابر في القيام لجنازةِ اليهودي (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، غيرَ أنهما قد اتَّفقا على إخراج حديث عُبيد الله بن مِقْسَم عن جابر في القيام لجنازةِ اليهودي (2) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو یہودی کا جنازہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو فرشتوں کی وجہ سے کھڑا ہوا ہوں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں نے عبید اللہ بن مقسم کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی یہودی کے جنازے کے لیے کھڑے ہونے والی حدیث کی تخریج پر اتفاق کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1337]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں نے عبید اللہ بن مقسم کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی یہودی کے جنازے کے لیے کھڑے ہونے والی حدیث کی تخریج پر اتفاق کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1337]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1337 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري المروزي، وأبو عمار: هو الحسين بن حريث المروزي، وقتادة: هو ابن دعامة السدوسي.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ ابوالعمار الحسین بن حریث اس کے ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه النسائي (2066) عن إسحاق بن راهويه، عن النضر بن شميل، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (2066) نے اسحاق بن راہویہ عن النضر بن شمیل کی سند سے روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن أبي موسى الأشعري عند أحمد في "المسند" 32/ (19491)، وفي إسناده ليث بن أبي سليم وهو ضعيف.
⚖️ درجۂ حدیث: اس باب میں ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت مسند احمد (19491/32) میں ہے مگر اس میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہے۔
(2) أخرجه البخاري (1311)، ومسلم (960) (78)، ولفظه: مرَّ بنا جنازة، فقام لها النبي ﷺ وقمنا، فقلنا: يا رسول الله، إنها جنازة يهودي، قال: "إذا رأيتم الجنازة فقوموا".
📖 حوالہ / مصدر: (2) بخاری (1311) اور مسلم میں مروی ہے کہ ہمارے پاس سے جنازہ گزرا تو آپ ﷺ کھڑے ہو گئے، ہم نے کہا: یہ تو یہودی ہے، فرمایا: "جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جایا کرو"۔