المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
32. كان إذا رأى جنازة قام حتى يمر بها
رسولُ اللہ ﷺ جب جنازہ دیکھتے تو اس کے گزر جانے تک کھڑے رہتے تھے۔
حدیث نمبر: 1338
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سُرَيج بن النُّعمان، حدثنا فُلَيح بن سليمان، عن سعيد بن عُبيد بن السَّبَّاق، عن أبي سعيد الخُدْري قال: كنا مَقْدَمَ النبيِّ ﷺ إذا حُضِر منا الميتُ آذَنَّا النبيَّ ﷺ، فحَضَرَه، واستغفر له، حتى إذا قدَّمنا (3) انصَرَفَ النبيُّ ﷺ ومَن معه، وربما قَعَدوا حتى يُدفَنَ، وربما طال حَبْسُ ذلك على نبيِّ الله ﷺ، فلمّا خَشِينا مشقةَ ذلك عليه، قال بعض القوم لبعض: لو كنَّا لا نُؤذِنُ النبيَّ ﷺ بأحدٍ حتى يُقبَضَ، فإذا قُبِض آذنَّاه، فلم يكن في ذلك مشقةٌ ولا حَبْس، فكنا نُؤذِنُه بالميت بعد أن يموت، فيأتيه فيُصلِّي عليه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ) تشریف لائے تو ہمارا طریقہ یہ تھا کہ جب ہم میں سے کوئی فوت ہوتا تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور اس کے لیے استغفار کرتے یہاں تک کہ جب تدفین ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی واپس لوٹتے، بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن ہونے تک وہاں رکنا پڑتا جس میں طویل وقت لگ جاتا، جب ہمیں محسوس ہوا کہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت ہوتی ہے تو ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ جب تک کسی کی روح قبض نہ ہو جائے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع نہ دیں، اور جب روح قبض ہو جائے تب بتائیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت اور انتظار کی زحمت نہ ہو، چنانچہ پھر ہم کسی کے انتقال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دیتے تو آپ تشریف لاتے اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھاتے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1338]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1338]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1338 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) كذا في النسخ الخطية، ولعله تحريف، صوابه: حتى إذا قُبِض، كما سيأتي في الموضع الآخر من "المستدرك"، وكما في مصادر التخريج، وإن كانت محفوظة فمعناه: حتى إذا قدَّمناه في اللحد، أي بعد قبضه والله أعلم.
🔍 فنی نکتہ: (3) نسخوں میں "حتی إذا قُدم" (لحد میں رکھنے تک) ہے، مگر درست "حتی إذا قُبِض" (قبر بند کرنے تک) لگ رہا ہے جیسا کہ دیگر مراجع میں ہے۔
(1) رجاله ثقات غير فليح بن سليمان، فقد تكلم بعض الأئمة في حفظه بما يحطه عن رتبة الصحيح، وقد بينا ذلك في تعليقنا على "المسند".
⚖️ درجۂ حدیث: (1) فلیح بن سلیمان کے علاوہ تمام راوی ثقہ ہیں، فلیح کے حافظے پر ائمہ نے کلام کیا ہے جس سے روایت صحیح کے درجے سے گر جاتی ہے۔
وأخرجه أحمد 18/ (11628)، وابن حبان (3006) من طريقين عن فليح بن سليمان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (11628/18) اور ابن حبان (3006) نے فلیح بن سلیمان کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (1365) من طريق محمد بن عبد الوهاب عن سريج.
🔁 تکرار: یہ آگے نمبر (1365) پر محمد بن عبدالوہاب کی سند سے آئے گی۔