🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. كان إذا رأى جنازة قام حتى يمر بها
رسولُ اللہ ﷺ جب جنازہ دیکھتے تو اس کے گزر جانے تک کھڑے رہتے تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1339
حدثنا علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عمر، حدثنا سفيانُ قال: ابن عَجْلان أخبرنا، أنه سَمِع سعيد بن أبي سعيد يقول: صلَّى ابن عباس على جنازةٍ، فَجَهَرَ بـ ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ﴾، ثم قال: إِنما جَهَرْتُ لِتَعلَمُوا أنها سُنة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم. وقد أجمعوا على أنَّ قول الصحابي: سُنَّة، حديثُ مُسنَد (3) . وله شاهدٌ بإسنادٍ صحيح أخرجه البخاري:
سعید بن ابی سعید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک جنازے کی نماز پڑھائی تو ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ﴾ (سورہ فاتحہ) بلند آواز سے پڑھی، پھر فرمایا: میں نے بلند آواز سے اس لیے پڑھا ہے تاکہ تم جان لو کہ یہ سنت ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ صحابی کا یہ کہنا کہ یہ سنت ہے حدیثِ مسند کے حکم میں ہوتا ہے۔ البتہ اس کی ایک شاہد حدیث صحیح سند کے ساتھ ہے جسے امام بخاری نے روایت کیا ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1339]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1339 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل ابن عجلان - وهو أبو عبد الله محمد بن عجلان القرشي - وقد توبع في الرواية الآتية بعده. ابن أبي عمر: هو محمد بن يحيى بن أبي عمر العَدَني، وسفيان: هو ابن عيينة.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) "حدیث صحیح" ہے؛ محمد بن عجلان القرشی کی وجہ سے سند قوی ہے اور ان کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه الشافعي في "الأم" 2/ 608 و 8/ 500، ومن طريقه البيهقي في "السنن الكبرى" 4/ 39، وفي "معرفة السنن والآثار" (7599) عن سفيان بن عيينة بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام شافعی نے "الام" میں اور ان کے واسطے سے بیہقی نے سفیان بن عیینہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 3/ 298، والطبراني في "الكبير" (10823)، وفي "الأوسط" (5910) من طريقين عن محمد بن عجلان، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ اور طبرانی نے محمد بن عجلان کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وانظر ما بعده.
🔍 فنی نکتہ: اس کے بعد والی روایت دیکھیں۔
(3) تعقبه الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 4/ 699 بقوله: كذا نقل الإجماع، مع أنَّ الخلاف عند أهل الحديث وعند الأصوليين شهير. ثم قال: وعلى الحاكم فيه مأخذ آخر، وهو استدراكه¤ ¤ له وهو في البخاري. انتهى، قلنا: بل لم يَفُتْ ذلك على الحاكم، فقد أشار إلى إخراج البخاري له كما في الرواية التالية، والحاكم يسمي الطرق المختلفة عن الصحابي الواحدِ شواهدَ.
⚠️ علّت / فنی نکتہ: (3) حافظ ابن حجر نے حاکم کے "اجماع" والے دعوے پر اعتراض کیا ہے کہ اس میں اختلاف مشہور ہے۔ نیز حاکم کا اسے مستدرک میں لانا بھی محلِ نظر ہے کیونکہ یہ بخاری میں پہلے سے موجود ہے۔