🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. إذا استهل الصبي ورث وصلي عليه
اگر بچہ پیدائش کے وقت آواز نکالے (زندہ پیدا ہو) تو وہ وارث ہوگا اور اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1364
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سُلَيمان المُرَاديّ، حدثنا أَسَدُ بن موسى. وأخبرنا جعفر بن محمد بن نُصَير الخُلْدي ببغداد، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا سليمان بن داود الهاشمي؛ قالا: حدثنا إبراهيم بن سعد، عن أبيه، عن عبد الله بن أبي قتادةَ، عن أبيه أبي قتادةَ قال: كان النبيُّ ﷺ إذا دُعِي إلى جنازةٍ سأل عنها، فإن أُثني عليها خيرٌ صلَّى عليها، وإن أُثني عليها غيرُ ذلك قال لأهلها:"شأنَكم بها"، ولم يُصلِّ عليها (1) .
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی جنازے کے لیے بلایا جاتا تو آپ اس (میت) کے بارے میں دریافت فرماتے، اگر اس کی تعریف خیر کے ساتھ کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نمازِ جنازہ پڑھاتے، اور اگر اس کے علاوہ کچھ اور (برائی) بیان کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھر والوں سے فرما دیتے: تم ہی اس کا معاملہ دیکھو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھاتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1364]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1364 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. إبراهيم بن سعد: هو ابن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ ابراہیم بن سعد ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 37/ (22555) و (22556)، وابن حبان (3057) من طريقين عن إبراهيم بن سعد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (22555/37) اور ابن حبان (3057) نے ابراہیم بن سعد کے دو طریقوں سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔