المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
39. إذا استهل الصبي ورث وصلي عليه
اگر بچہ پیدائش کے وقت آواز نکالے (زندہ پیدا ہو) تو وہ وارث ہوگا اور اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔
حدیث نمبر: 1365
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب بن يوسف الحافظ إملاءً، حدثنا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب العَبْدي، حدثنا أبو الحسين سُرَيج بن النُّعمان الجَوْهَري، حدثنا فُلَيح بن سليمان، عن سعيد بن عُبيد بن السَّبَّاق، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قد كنَّا مَقْدَمَ النبيِّ ﷺ إذا حُضِر منّا الميتُ، آذنَّا النبيَّ ﷺ فَحَضَرَه واستغفَرَ له، حتى إذا قُبِض انصرَفَ النبيُّ ﷺ ومن معه حتى يُدفَن، وربما طالَ حَبْسُ ذلك على نبيِّ الله ﷺ، فلما خَشِينا مشقَّةَ ذلك عليه قال بعضُ القوم لبعض: لو كنا لا نُؤذِنُ النبيَّ ﷺ بأحدٍ حتى يُقبَضَ، فإذا قُبِضَ آذنّاه، فلم يكن عليه في ذلك مشقَّةٌ ولا حبسٌ، ففعلنا ذلك، وكنا نُؤذِنُه بالميت بعد أن يموت، فيأتيهِ فيصلِّي عليه، فربما انصَرَفَ، وربما مَكَثَ حتى يُدفَنَ الميت، فكنا على ذلك حِينًا، ثم قلنا: لو لم نُشخِصِ النبيَّ ﷺ وحملنا جنازتَنا إليه حتى يصلِّيَ عليه عند بيته، لكان ذلك أرفَقَ به، ففعلنا، فكان ذلك الأمرُ إلى اليوم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وقد أمليتُه فيما مضى مختصرًا.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وقد أمليتُه فيما مضى مختصرًا.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ) تشریف لائے تو ہمارا طریقہ یہ تھا کہ جب ہم میں سے کسی کی وفات کا وقت قریب آتا تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور اس کے لیے استغفار کرتے یہاں تک کہ جب اس کی روح قبض ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی تدفین تک وہیں رہتے، بسا اوقات اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں بہت دیر تک رکنا پڑتا، جب ہمیں اس بات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشقت کا اندیشہ ہوا تو بعض لوگوں نے بعض سے کہا: اگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تک اطلاع نہ دیں جب تک کہ روح قبض نہ ہو جائے، اور روح قبض ہونے کے بعد آپ کو بتائیں تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مشقت اور طویل انتظار کا بوجھ نہیں ہوگا، چنانچہ ہم نے ایسا ہی کرنا شروع کر دیا اور میت کے فوت ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھاتے، پھر کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے جاتے اور کبھی تدفین تک وہیں رکتے، ہم ایک عرصے تک اسی طریقے پر رہے، پھر ہم نے آپس میں کہا: اگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف نہ دیں اور اپنے جنازے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جائیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے پاس ہی ان کی نمازِ جنازہ پڑھا دیا کریں تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے زیادہ سہولت کی بات ہوگی، چنانچہ ہم نے یہی طریقہ اپنا لیا اور وہ معاملہ آج تک اسی طرح چلا آ رہا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور میں نے اسے پہلے مختصراً املاء کروایا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1365]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور میں نے اسے پہلے مختصراً املاء کروایا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1365]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1365 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) رجاله ثقات غير فليح بن سليمان، ففيه كلام يحطه عن رتبة الصحيح. وانظر ما سلف برقم (1338).
⚖️ درجۂ حدیث: (2) فلیح بن سلیمان کے علاوہ تمام راوی ثقہ ہیں، فلیح کے بارے میں کلام موجود ہے جس سے درجہ گھٹ جاتا ہے۔ نمبر (1338) ملاحظہ فرمائیں۔