🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. دلالة العمل الذى تستحق به الجنة
اس عمل کی رہنمائی جس کے ذریعے جنت کی مستحق ٹھہرا جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1415
أخبرنا أبو العباس قاسم بن قاسم السَّيَّاري بمَرْو، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، أخبرنا الحسين بن واقد، حدثنا الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرةَ، قال: جاء رجلٌ إلى رسول الله ﷺ فقال: يا رسول الله، دُلَّني على عملٍ إذا أنا عَمِلتُ به أُدخِلتُ الجنةَ، قال:"كُنْ مُحسِنًا"، قال: كيف أَعلمُ أنِّي مُحسِنٌ؟ قال:"سَلْ جِيرانَكَ، فإن قالوا: إنك مُحسِن، فأنت مُحسِنٌ، وإن قالوا: إنك مُسيءٌ، فأنت مُسيء" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے جسے کر کے میں جنت میں داخل ہو جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیکوکار بن جاؤ۔ اس نے عرض کیا: میں کیسے جانوں کہ میں نیکوکار ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے پڑوسیوں سے پوچھو، اگر وہ کہیں کہ تم نیکوکار ہو تو تم نیکوکار ہو، اور اگر وہ کہیں کہ تم برے ہو تو تم برے ہو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1415]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1415 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن موسى بن حاتم، والحسين بن واقد قوي الحديث، وقد توبعا. الأعمش: هو سليمان بن مهران، وهو أصغر من الحسين بن واقد، فرواية الحسين عنه من رواية الأكابر عن الأصاغر. وأبو صالح: هو ذكوان بن عبد الله السمان.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) حدیث صحیح ہے؛ محمد بن موسیٰ بن حاتم کی وجہ سے سند حسن ہے اور حسین بن واقد قوی راوی ہیں۔ یہ روایۃ الاکابر عن الاصاغر (بڑے کا چھوٹے سے روایت کرنا) کی مثال ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (7925) و (9120) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. وزاد في الموضع الأول في أوله: جاء رجل إلى نبي الله ﷺ فقال: يا نبي الله، دلني على عمل إذا عملته دخلت الجنة، ولا تكثر عليَّ، قال: "لا تغضب". وهذه الزيادة أخرجها البخاري مفردةً برقم (6116) من طريق أبي حَصين، عن أبي صالح، عن أبي هريرة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے حاکم کی سند سے روایت کیا اور شروع میں یہ اضافہ بھی ہے کہ ایک شخص نے جنت کا عمل پوچھا تو فرمایا: "غصہ نہ کر"۔ یہ اضافہ بخاری (6116) میں بھی ہے۔
وأخرجه النسائي في "جزء من إملائه" (16)، وقوام السنة في "الترغيب والترهيب" (871) من طريقين عن علي بن الحسن بن شقيق، به. وزادا في أوله الزيادة المشار إليها آنفًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی نے "جز من املاۂ" اور قوام السنہ نے علی بن حسن بن شقیق کے طریقوں سے اسی اضافے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
أما متابعة الحسين بن واقد، فقد أخرجها الدارقطني في "العلل" (1907) من طريق أبي حمزة السكري - وهو ثقة - عن سليمان الأعمش، به. وزاد في أوله أيضًا الزيادة المذكورة. قال الدارقطني: وهذه الألفاظ لم يأت بها غيرهما - يعني الحسين بن واقد وأبا حمزة السكري - ثم قال: وهذه الألفاظ إنما رواها الأعمش، عن جامع بن شداد، عن كلثوم الخزاعي، عن النبي ﷺ. انتهى، يعني مرسلًا.
⚠️ علّت / فنی نکتہ: حسین بن واقد کی متابعت ابوحمزہ السکری (ثقہ) نے کی ہے۔ امام دارقطنی کے مطابق ان الفاظ کو صرف ان دونوں نے ابوہریرہ سے جوڑا ہے، ورنہ یہ دراصل کلثوم الخزاعی کی مرسل روایت ہے۔
وحديث كلثوم الخزاعي المرسل أخرجه ابن ماجه (4222) من طريق أبي معاوية الضرير، عن الأعمش، عن جامع بن شداد، عن كلثوم الخزاعي. ولا نعتقد أنَّ ذلك يُعِلُّ حديث أبي هريرة، سيما وإنَّ الأعمش مكثر، فلا يمنع أن يكون له فيه طريقان، والله أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: کلثوم کی مرسل روایت ابن ماجہ (4222) میں ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ ابوہریرہ کی حدیث کے لیے علت نہیں کیونکہ اعمش کے پاس اس کے دو مختلف طریقے ہو سکتے ہیں۔
ويشهد له حديث عبد الله بن مسعود، عند أحمد 6/ (3808)، وابن ماجه (4223)، وابن حبان (525) و (526)، وإسناده صحيح.
🧩 متابعات و شواہد: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت احمد (3808/6) اور ابن ماجہ میں صحیح سند سے مروی ہے جو اس کی شاہد ہے۔