🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. البكاء على الميت
میت پر رونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1427
حدَّثَناه أبو إسحاق المزكِّي إملاءً، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا عُقْبة بن سِنَان البَصريُّ، حدثنا عثمان بن عثمان الغَطَفاني، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، قال: قال أبو هريرة: إذا أنا مِتُّ فلا تَنُوحوا عليَّ، فإنَّ رسول الله ﷺ لم يُنَحْ عليه (2) . هذه الزيادة عن أبي هريرة غريبةٌ جدًّا، إلّا أن عثمان الغَطَفانيَّ ليس من شرط كتابنا هذا (3) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب میں مر جاؤں تو مجھ پر بین نہ کرنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی بین نہیں کیا گیا تھا۔
سیدنا ابوہریرہ سے مروی یہ اضافہ نہایت غریب ہے، اور عثمان غطفانی ہماری اس کتاب کی شرائط پر پورا نہیں اترتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1427]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1427 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن من أجل عثمان الغطفاني ومحمد بن عمرو: وهو ابن علقمة. أبو إسحاق المزكي: هو إبراهيم بن محمد بن يحيى، ومحمد بن إسحاق: هو ابن خُزيمة.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) عثمان الغطفانی اور محمد بن عمرو کی وجہ سے سند حسن ہے۔ ابواسحاق المزکی سے مراد ابراہیم بن محمد اور محمد بن اسحاق سے مراد ابن خزیمہ ہیں۔