🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. إن من السنة أن يغتسل إذا أراد أن يحرم وإذا أراد أن يدخل مكة
یہ سنت ہے کہ احرام باندھنے سے پہلے اور مکہ میں داخل ہونے سے پہلے غسل کیا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1658
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البَيروتي، حدثنا أبي حدثنا الأوزاعي، حدثني عبد الله بن عامر، حدثني نافع، عن ابن عمر: عن رسول الله ﷺ قال:"مَن أَهدَى تطوعًا، ثم ضلَّتْ، فإن شاءَ أبدَلَها وإن شاءَ تَرَكَ، وإن كانت في نَذْرٍ فليُبدِلْ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص نفلی قربانی کا جانور بھیجے پھر وہ گم ہو جائے تو اگر چاہے تو اس کے بدلے میں کوئی دوسرا جانور دے اور چاہے تو رہنے دے اور اگر وہ جانور نذر کا تھا تو اس کے بدلے میں دوسرا جانور دینا ضروری ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1658]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1658 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح موقوفًا، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله بن عامر - وهو الأسلمي أبو عامر المدني المقرئ - وقد خالف الحفّاظ كمالك بن أنس وشعيب بن أبي حمزة فإنهما روياه عن نافع عن ابن عمر موقوفًا.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت موقوفاً صحیح ہے، لیکن مرفوعاً (نبی ﷺ کے فرمان کے طور پر) اس کی سند عبداللہ بن عامر الاسلمی کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ ثقہ راویوں (جیسے امام مالک اور شعیب) نے اسے نافع عن ابن عمر سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (2579)، وابن عدي في "الكامل" 4/ 154، والدارقطني (2528)، وتمام الرازي في "فوائده" (1191)، والبيهقي 5/ 244 من طرق عن عبد الرحمن الأوزاعي، بهذا الإسناد. قال ابن خزيمة: إن صحَّ الخبر ولا إخال، فإنَّ في القلب من عبد الله بن عامر الأسلمي.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (2579)، دارقطنی (2528) اور بیہقی (5/ 244) نے اوزاعی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ابن خزیمہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ روایت صحیح ہے (جو کہ مجھے نہیں لگتا) تو عبداللہ بن عامر الاسلمی کی وجہ سے دل میں کھٹک موجود ہے۔
وخالف الرواةَ عن الأوزاعي المعافى بنُ عمران، فقال: أيوب بن موسى بدلًا من عبد عبد الله بن عامر، أخرجه من طريقه البيهقي 5/ 243 - 244 عن الأوزاعي، عن أيوب بن موسى، عن نافع، عن ابن عمر مرفوعًا. وقال البيهقي بإثره: كذا روي بهذا الإسناد عن الأوزاعي، وأظنه وهمًا، فإنما رواه غيره عن الأوزاعي عن عبد الله بن عامر الأسلمي، وعبد الله بن عامر يليق به رفع الموقوفات، والله أعلم.
⚠️ سندی اختلاف: معافی بن عمران نے اوزاعی سے روایت کرتے ہوئے "ایوب بن موسیٰ" کا نام ذکر کیا ہے، مگر امام بیہقی کے نزدیک یہ وہم ہے کیونکہ دیگر راویوں نے اسے عبداللہ بن عامر الاسلمی سے ہی نقل کیا ہے اور وہ موقوف روایات کو مرفوع کرنے کے لیے (کمزوری کی وجہ سے) معروف ہیں۔
وروي الحديث من وجه آخر عن ابن عمر مرفوعًا، أخرجه الدارقطني (2527) - ومن طريقه البيهقي 5/ 244 - عن القاضي الحسين بن إسماعيل المحاملي، عن أبي سعيد عبد الله بن شبيب، عن عبد الجبار بن سعيد المساحقي، عن ابن أبي الزناد، عن موسى بن عقبة، عن أبي الزبير، عن ابن عمر، رفعه. وهذا إسناد ضعيف كما قال الدارقطني، عبد الله بن شبيب قال أبو أحمد الحاكم: ذاهب الحديث، وقال الذهبي: أخباري علامة لكنه واهٍ. قلنا: وشيخه عبد الجبار بن سعيد، قال العقيلي: له مناكير.
⚖️ درجۂ حدیث: اسے دارقطنی (2527) نے ایک اور سند سے مرفوعاً روایت کیا ہے لیکن وہ سند بھی ضعیف ہے۔ 👤 راوی پر جرح: عبداللہ بن شبیب "ذاہب الحدیث" (سخت ضعیف) ہیں اور ان کے شیخ عبدالجبار "منکر روایات" بیان کرنے والے ہیں۔
والصحيح في هذا الخبر أنه موقوف على ابن عمر كما قال البيهقي، فقد رواه مالك في "الموطأ" 1/ 381 - ومن طريقه البيهقي 5/ 243 - عن نافع عن ابن عمر قوله.
⚖️ درجۂ حدیث: صحیح بات یہ ہے کہ یہ روایت ابن عمر ؓ پر موقوف ہے۔ امام مالک نے "الموطأ" 1/ 381 میں اسے موقوفاً ہی روایت کیا ہے۔
وتابع مالكًا على وقفه شعيبُ بنُ أبي حمزة عند البيهقي في "السنن الكبرى" 9/ 259، وفي "معرفة السنن والآثار" (10927).
🧩 متابعات و شواہد: شعیب بن ابی حمزہ نے بیہقی کے ہاں اس کے موقوف ہونے میں امام مالک کی تائید کی ہے۔