🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يَغْتَسِلَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ
یہ سنت ہے کہ احرام باندھنے سے پہلے اور مکہ میں داخل ہونے سے پہلے غسل کیا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1655
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أحمد بن أبي الطَّيِّب قال: قُرئ على أبي بكر بن عيَّاش وأنا أَنظُر في هذا الكتاب فأقرَّ به: عن يعقوب بن عطاء، عن أبيه، عن ابن عباسٍ قال: اغتَسَلَ رسولُ الله ﷺ ثم لَبِس ثيابَه، فلما أتى ذا الحُلَيفة صلَّى ركعتين، ثم قَعَدَ على بعيرِه، فلمَّا استَوى به على البَيْداء أحرَمَ بالحجّ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ يعقوب بن عطاء بن أبي رباح ممَّن جَمَعَ أئمةُ الإسم حديثه، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرطهما:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا، پھر کپڑے پہنے پھر جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو دو رکعتیں ادا کیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر بیٹھ گئے پھر جب آپ مقامِ بیداء میں پہنچ گئے تو حج کا احرام باندھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ یعقوب بن عطا بن ابی رباح کی احادیث اَئمہ اسلام جمع کرتے ہیں۔ اور اس حدیث کی ایک شاہد بھی ہے جو کہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار پر صحیح ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1655]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1656
حدَّثَناه أبو علي الحافظ، أخبرنا عَبْدان الأهوازي، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا سهل بن يوسف، حدثنا حُميد، عن بكر بن عبد الله المُزَني، عن ابن عمر قال: إنَّ من السُّنة أن يغتسلَ إذا أراد أن يُحرِمَ، وإذا أراد أن يَدخُل مكةَ (1) .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب آدمی احرام کا ارادہ کرے یا مکہ میں داخل ہونے کا ارادہ کرے تو غسل کرنا سنت ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1656]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1657
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا جعفر بن عَوْن، أخبرنا هشام بن عُروة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا وكيع، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، قال: حدثني ناجيةُ الخُزاعي، صاحبُ بُدْنِ رسول الله ﷺ: أنه سألَ رسول الله ﷺ: كيف أصنَعُ بما عَطَبَ من بُدْنِي؟ فأَمَرني أن أنحَرَ كلَّ بَدَنةٍ عَطَبَتْ، ثم يُلقَى نَعلُها في دَمِها، ثم يُخَلَّى بينها وبين الناس فيأكلونها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ناصیہ رضی اللہ عنہ خزاعی سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ جب میرا قربانی کا جانور تھک جائے تو میں اس کے ساتھ کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ جو جانور تھک جائے، اس کو نحر کر دوں پھر اس کے کھروں کو اس کے خون میں ڈال دیا جائے، پھر اس کے اور لوگوں کے درمیان سے ہٹ جائیں تاکہ لوگ اس کو کھا لیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1657]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1658
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البَيروتي، حدثنا أبي حدثنا الأوزاعي، حدثني عبد الله بن عامر، حدثني نافع، عن ابن عمر: عن رسول الله ﷺ قال:"مَن أَهدَى تطوعًا، ثم ضلَّتْ، فإن شاءَ أبدَلَها وإن شاءَ تَرَكَ، وإن كانت في نَذْرٍ فليُبدِلْ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص نفلی قربانی کا جانور بھیجے پھر وہ گم ہو جائے تو اگر چاہے تو اس کے بدلے میں کوئی دوسرا جانور دے اور چاہے تو رہنے دے اور اگر وہ جانور نذر کا تھا تو اس کے بدلے میں دوسرا جانور دینا ضروری ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1658]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں