المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
19. لَا يُحْرَمُ بِالْحَجِّ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ
حج کے لیے صرف حج کے مہینوں ہی میں احرام باندھا جائے۔
حدیث نمبر: 1659
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل وعلي بن محمد المُستَمْلي في آخرين، قالوا: حدثنا محمد بن إسحاق بن خُزَيمة، حدثنا محمد بن العلاء بن كُرَيب، حدثنا أبو خالد، عن شعبة، عن الحَكَم، عن مِقسَم، عن ابن عباس قال: لا يُحرَمُ بالحجِّ إِلَّا في أشهُر الحجِّ، فإنَّ من سُنَّة الحجِّ أن يُحرمَ بالحجِّ في أشهُر الحج (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد جَرَتْ فيه مناظرةٌ بيني وبين شيخنا أبي محمد السَّبيعي، فإنه أنكره وقال: إنما رواه الناسُ عن أبي خالد عن الحجّاج بن أَرطاة عن الحَكَم، فمِن أين جاء به شيخُكم عن شعبة؟ فقلت: تأمَّل ما تقول، فإنَّ شيخنا أتى بالإسناديَن جميعًا، فكأنما ألقَمْتُه حجرًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد جَرَتْ فيه مناظرةٌ بيني وبين شيخنا أبي محمد السَّبيعي، فإنه أنكره وقال: إنما رواه الناسُ عن أبي خالد عن الحجّاج بن أَرطاة عن الحَكَم، فمِن أين جاء به شيخُكم عن شعبة؟ فقلت: تأمَّل ما تقول، فإنَّ شيخنا أتى بالإسناديَن جميعًا، فكأنما ألقَمْتُه حجرًا (1) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حج کا احرام صرف حج کے مہینوں ہی میں باندھا جائے گا، کیونکہ حج کی سنتوں میں سے یہ ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینوں میں باندھا جائے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس حدیث کے متعلق میرے اور ہمارے شیخ ابو محمد سبیعی کے درمیان مناظرہ ہوا، انہوں نے اس کا انکار کیا اور کہا کہ لوگ اسے حجاج بن ارطاۃ کے واسطے سے روایت کرتے ہیں، تو آپ کے شیخ نے اسے شعبہ کے واسطے سے کہاں سے لیا؟ میں نے عرض کیا کہ ذرا غور کریں، ہمارے شیخ نے دونوں اسناد بیان کی ہیں، جس پر وہ لاجواب ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1659]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس حدیث کے متعلق میرے اور ہمارے شیخ ابو محمد سبیعی کے درمیان مناظرہ ہوا، انہوں نے اس کا انکار کیا اور کہا کہ لوگ اسے حجاج بن ارطاۃ کے واسطے سے روایت کرتے ہیں، تو آپ کے شیخ نے اسے شعبہ کے واسطے سے کہاں سے لیا؟ میں نے عرض کیا کہ ذرا غور کریں، ہمارے شیخ نے دونوں اسناد بیان کی ہیں، جس پر وہ لاجواب ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1659]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح عن ابن عباس، وهذا إسناد قوي إن كان أبو خالد - وهو سليمان بن حيان الأحمر - قد حفظه عن شعبة عن الحكم، وإلَّا فقد رواه أبو كريب محمد بن العلاء نفسه عن أبي خالد الأحمر عن الحجاج بن أرطاة عن الحكم، وتابعه في روايته عن الحجاج عن ...» [ترقيم الرساله 1659] [ترقيم الشركة 1648]
الحكم على الحديث: خبر صحيح عن ابن عباس