المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
20. لَا يُمْنَعُ أَحَدٌ عَنِ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ وَالصَّلَاةِ فِيهِ أَيَّ سَاعَةٍ أَحَبَّ
کسی کو بھی بیت اللہ کا طواف کرنے اور وہاں نماز پڑھنے سے کسی وقت نہ روکا جائے۔
حدیث نمبر: 1660
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن أبي الزَّبير، عن عبد الله بن باباه، عن جُبَير بن مُطْعِمٍ: أَنَّ النبيَّ ﷺ قال:"يا بني عبدِ مَنَاف، لا تَمنعَوا أحدًا طافَ بهذا البيت وصلَّى أيَّ ساعةٍ أحبَّ من ليلٍ أو نهار" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جبیر بن مطعم بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے بنی عبدمناف! تم کسی شخص کو دن اور رات میں کسی بھی وقت اس گھر کا طواف کرنے اور اس میں نماز پڑھنے سے منع مت کرو۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1660]
حدیث نمبر: 1661
حدثني علي بن عيسى، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شَيبة، حدثنا أبو خالدٍ الأحمر، عن ابن جُرَيج، عن عمر بن عطاء، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: لا صَرُورة في الإسلام" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام میں صرورۃ (زندگی بھر شادی نہ کرنے اور حج نہ کرنے) کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1661]
حدیث نمبر: 1662
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثّنى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا أبو معاوية محمد بن خازم عن الحسن بن عمرو الفُقَيمي، عن أبي صفوان، عن ابن عباسٍ قال: قال رسول الله ﷺ:"لا صَرُورة في الإسلام".
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه (1) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام میں صرورۃ (زندگی بھر شادی نہ کرنے اور حج نہ کرنے) کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1662]