المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
20. لا يمنع أحد عن الطواف بالبيت والصلاة فيه أى ساعة أحب
کسی کو بھی بیت اللہ کا طواف کرنے اور وہاں نماز پڑھنے سے کسی وقت نہ روکا جائے۔
حدیث نمبر: 1662
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثّنى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا أبو معاوية محمد بن خازم عن الحسن بن عمرو الفُقَيمي، عن أبي صفوان، عن ابن عباسٍ قال: قال رسول الله ﷺ:"لا صَرُورة في الإسلام".
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه (1) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں «صروره» (حج کی ادائیگی سے گریز یا ترکِ دنیا) کا کوئی تصور نہیں ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1662]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1662]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 1662]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1662 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) هذا الحديث ثابت في نسخنا الخطية كلها بهذا الإسناد والمتن إلا أن الحافظ ابن حجر لم يذكره في "إتحاف المهرة"، ولم نجد أحدًا أخرج هذا الحديث بهذا الإسناد البتة، والراجح أنه سبق نظر من أحد النساخ قديمًا، حيث ركّب متن حديث عكرمة عن ابن عباس الذي قبل هذا على إسناد الحديث الذي بعده، وهو حديث أبي صفوان عن ابن عباس في التعجيل بالحج، والله تعالى أعلم.
🔍 علّت / فنی نکتہ: یہ حدیث تمام قلمی نسخوں میں اسی سند سے ہے، مگر حافظ ابن حجر نے اس کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی کسی اور کتاب میں یہ اس سند سے ملی ہے۔ غالب گمان یہ ہے کہ کسی قدیم کاتب نے پچھلی حدیث کا متن اگلی حدیث کی سند پر چڑھا دیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1662 in Urdu