🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. لا يمنع أحد عن الطواف بالبيت والصلاة فيه أى ساعة أحب
کسی کو بھی بیت اللہ کا طواف کرنے اور وہاں نماز پڑھنے سے کسی وقت نہ روکا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1660
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن أبي الزَّبير، عن عبد الله بن باباه، عن جُبَير بن مُطْعِمٍ: أَنَّ النبيَّ ﷺ قال:"يا بني عبدِ مَنَاف، لا تَمنعَوا أحدًا طافَ بهذا البيت وصلَّى أيَّ ساعةٍ أحبَّ من ليلٍ أو نهار" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جبیر بن مطعم بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے بنی عبدمناف! تم کسی شخص کو دن اور رات میں کسی بھی وقت اس گھر کا طواف کرنے اور اس میں نماز پڑھنے سے منع مت کرو۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1660]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1660 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. أبو بكر بن إسحاق: اسمه أحمد، والحميدي: هو عبد الله بن الزبير بن عيسى الحافظ، وسفيان هو ابن عيينة، وأبو الزبير: هو محمد بن مسلم بن تدرُس المكّي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 👤 راوی پر جرح: الحمیدی (عبداللہ بن زبیر)، سفیان بن عیینہ اور ابوالزبیر المکی سب ثقہ راوی ہیں۔
وقد اختلف في هذا الإسناد على أبي الزبير اختلافًا ذكره الدارقطني في "العلل" (3326)، وقد ¤ ¤ فصلناه في تعليقنا على "المسند" 27/ (16736).
⚠️ سندی اختلاف: اس سند میں ابوالزبیر پر کچھ اختلاف ہوا ہے جس کا ذکر دارقطنی نے "العلل" (3326) میں کیا ہے اور ہم نے مسند احمد 27/ (16736) میں اسے تفصیل سے بیان کیا ہے۔
وهذا الحديث أخرجه أحمد (16736)، وأبو داود (1894)، وابن ماجه (1254)، والترمذي (868)، والنسائي (1574) و (3932)، وابن حبان (1552) و (1554) من طرق عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. وقال الترمذي حديث حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، ابوداؤد (1894)، ابن ماجہ (1254)، ترمذی اور نسائی نے سفیان بن عیینہ کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد (16743) و (16774) من طريق ابن جريج، وابن حبان (1553) من طريق عمرو بن الحارث، كلاهما عن أبي الزبير، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد نے ابن جریج سے اور ابن حبان نے عمرو بن الحارث کے طریق سے ابوالزبیر سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (16753) و (16769) من طريق عبد الله بن أبي نجيح، عن عبد الله بن باباه، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (16753) نے ابن ابی نجیح عن عبداللہ بن باباہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن ابن عباس أخرجه الفاكهي في "أخبار مكة" (489)، والطحاوي في "شرح معاني الآثار" 2/ 186، والطبراني في "الكبير" (11359)، و "الأوسط" (497) و (6335)، و "الصغير" (55)، والدارقطني (1575)، وأبو نعيم في "أخبار أصبهان" 2/ 273.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں ابن عباس ؓ کی روایات فاکہی، طحاوی، طبرانی اور دارقطنی وغیرہ کے ہاں موجود ہیں۔