المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
26. حلة لحم الصيد للمحرم ما لم يصده أو يصاد له
محرم کے لیے شکار کے گوشت کا حلال ہونا، بشرطیکہ اس نے خود شکار نہ کیا ہو اور نہ اس کے لیے شکار کیا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 1680
أخبرَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا وكيع، عن جَرِير بن حازم، عن عبد الله بن عُبيد بن عُمير، عن عبد الرحمن بن أبي عمَّار، عن جابر بن عبد الله قال: جَعَلَ رسولُ الله ﷺ في الضَّبُع يُصيبُه المُحرِمُ كَبْشًا نجديًّا، وجَعَلَه من الصَّيد (2) .
سیدنا عبدالرحمن بن ابی عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے جابر سے کہا: کیا ” بجو “ کھایا جاتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ میں نے کہا: کیا یہ شکار ہے؟ (انہوں نے کہا: جی ہاں۔) میں نے پوچھا: کیا تم نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ جریر بن حازم نے عبداللہ بن عبید بن عمیر سے انہوں نے عبدالرحمن بن ابی عمار کے واسطے سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ اگر بجو کو محرم شکار کرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نجدی مینڈھا لازم کیا ہے اور اس کو شکار قرار دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1680]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1680 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. محمد بن عبد السلام: هو النيسابوري الوراق، وإسحاق بن إبراهيم: هو ¤ ¤ابن راهويه، ووكيع: هو ابن الجراح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ محمد بن عبدالسلام نیشاپوری، اسحاق بن راہویہ اور وکیع بن الجراح اس کے راوی ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (3085) عن علي بن محمد، عن وكيع بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (3085) نے علی بن محمد عن وکیع کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أبو داود (3801) عن محمد بن عبد الله الخزاعي، وابن حبان (3964) من طريق عبد الله بن المبارك، كلاهما عن جرير بن حازم، به إلى جابر بن عبد الله قال: سئل رسول الله ﷺ عن الضبع فقال: "هي صيد وفيها كبش". لفظ ابن المبارك، ولفظ الخزاعي: قال: سألت رسول الله ﷺ عن الضبع فقال: "هو صيد، ويُجعل فيه كبش إذا صاده المحرم".
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (3801) اور ابن حبان نے جریر بن حازم کے طریق سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے لکڑ بگھڑ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ شکار ہے اور (اس کے بدلے) ایک مینڈھا ہے"۔