المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
26. حلة لحم الصيد للمحرم ما لم يصده أو يصاد له
محرم کے لیے شکار کے گوشت کا حلال ہونا، بشرطیکہ اس نے خود شکار نہ کیا ہو اور نہ اس کے لیے شکار کیا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 1681
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن الجَرَّاح بمَرْو، حدثنا يحيى بن ساسَوَيْهِ، حدثنا محمد بن أبي يعقوب، حدثنا حسان بن إبراهيم، حدثنا إبراهيم الصائغ، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسولُ الله ﷺ:"الضَّبُعَ صَيدٌ، فإذا أصابه المُحرِمُ ففيه جزاءٌ؛ كَبْشٌ مُسِنٌّ، ويُؤكَل" (1) .
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وإبراهيم بن ميمون الصائغ زاهدٌ عالمٌ، أدرك الشهادة ﵁.
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وإبراهيم بن ميمون الصائغ زاهدٌ عالمٌ، أدرك الشهادة ﵁.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بجو شکار ہے، اگر کوئی اس کا شکار کرے تو اس کی سزا ایک دو سالہ مینڈھا ہے اور اس کا گوشت کھایا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور ابراہیم بن میمونہ صائغ عبادت گزار تھے، عالم تھے اور انہوں نے شہادت پائی۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1681]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1681 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله ثقات غير إبراهيم - وهو ابن ميمون - الصائغ، وحسان بن إبراهيم - وهو الكرماني - فمختلف فيهما، وبالجملة فهما صدوقان لا بأس بهما، لكن قد خولفا في إسناد هذا الحديث، فرواه إبراهيم الصائغ هنا عن عطاء - وهو ابن أبي رباح - عن جابر مرفوعًا، وخالفه غيره فوقفه، ورجَّح الطحاوي الموقوف كما سيأتي في التخريج.
⚖️ درجۂ حدیث: ابراہیم الصائغ اور حسان بن ابراہیم صدوق ہیں، ⚠️ سندی اختلاف: مگر اس کی سند میں اختلاف ہے؛ ابراہیم نے اسے مرفوعاً روایت کیا جبکہ دیگر نے اسے موقوفاً بیان کیا ہے، اور امام طحاوی نے موقوف روایت کو ہی ترجیح دی ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (2648)، والطحاوي في "شرح معاني الآثار" 2/ 164 - 165، وفي "شرح مشكل الآثار" (3472)، والدارقطني (2539)، والبيهقي 183/ 5 و 9/ 319 من طرق عن حسان بن إبراهيم، بهذا الإسناد. ولفظه عند الطحاوي: عن جابر: أنَّ رسول الله ﷺ سئل عن الضبع، فقال: "هي من الصيد"، وجعل فيها إذا أصابها المحرم كبشًا مسنًا ويؤكل.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (2648)، طحاوی، دارقطنی اور بیہقی نے حسان بن ابراہیم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وخالف إبراهيمَ الصائغَ منصورُ بن زاذان - وهو ثقة - فرواه عن جابر موقوفًا؛ أخرجه ابن خزيمة (2647)، والطحاوي في "شرح المعاني" 2/ 165، وفي "شرح المشكل" 9/ 98، والدارقطني (2547)، والبيهقي 5/ 183 من طريق منصور بن زاذان، عن عطاء، عن جابر قال: قُضِي في الضبع بكبش.
⚠️ سندی اختلاف: ثقہ راوی منصور بن زاذان نے ابراہیم الصائغ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے حضرت جابر ؓ پر "موقوف" روایت کیا ہے۔
وتابع منصورًا على وقفه عبدُ الكريم بن مالك الجزري، فيما أخرجه الطحاوي في "شرح المشكل" 9/ 98 من طريقه عن عطاء عن جابر قال في الضبع إذا أصابه المحرم: كبش. قال الطحاوي: إبراهيم الصائغ - وإن كان مكانه من العلم الذي هو مكانه منه - قد خالفه في هذا الإسناد رجلان ليسا دونه وهما منصور بن زاذان وعبد الكريم بن مالك الجزري … ثم قال: وكان اثنان أولى بالحفظ من واحد. ¤ ¤قلنا: وخالفهم جميعهم عبد الملك بن أبي سليمان، فرواه عن عطاء، عن جابر قال: قضى عمر في الضبع كبشًا. أخرجه من طريقه البيهقي 5/ 184، ويغلب على ظننا - والله أعلم - أن عبد الملك قد وهم في جعله من قضاء عمر في رواية عطاء عن جابر، والصواب أن قضاء عمر إنما هو من رواية أبي الزبير عن جابر، فقد أخرج مالك 1/ 414، والشافعي في "الأم" 3/ 494 و 531، وعبد الرزاق (8224)، والطحاوي في "شرح المعاني" 2/ 164، وفي "شرح المشكل" 9/ 96، والبغوي في "شرح السنة" (1993)، والبيهقي 5/ 183 من طرق عن أبي الزبير، عن جابر: أنَّ عمر حكم في الضبع كبشًا.
🔍 علّت / فنی نکتہ: عبدالکریم الجزری نے بھی اسے موقوف روایت کرنے میں منصور کی تائید کی ہے۔ امام طحاوی کے بقول دو راویوں کا حفظ ایک پر مقدم ہے۔ 📌 اہم نکتہ: حضرت عمر ؓ کا لکڑ بگھڑ کے بدلے مینڈھے کا فیصلہ کرنا امام مالک، شافعی، عبدالرزاق اور بیہقی نے ابوالزبیر عن جابر کی سند سے روایت کیا ہے، یہی زیادہ صحیح ہے۔