🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. الحجر من البيت
حِجر (حطیم) خانۂ کعبہ ہی کا حصہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1707
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا مالك بن إسماعيل، أخبرنا عبد السلام بن حَرْب، عن شُعبة، عن عاصم، عن الشَّعْبي، عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ شَرِبَ ماءً في الطَّواف (1) .
هذا حديث غريب (2) صحيح. ولم يُخرجاه يها اللفظ (1) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے دوران پانی پیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح غریب ہے لیکن انہوں نے لفظوں کے ہمراہ اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1707]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1707 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. مالك بن إسماعيل: هو أبو غسان الكوفي، وعاصم هو بن سليمان: الأحول، والشعبي: هو عامر بن شراحيل.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: مالک بن اسماعیل سے مراد ابو غسان کوفی ہیں، عاصم سے مراد ابن سلیمان الاحول ہیں اور شعبی سے مراد عامر بن شراحیل ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (3837) عن هارون بن عيسى بن السكين، عن العباس بن محمد الدوري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (3837) نے ہارون بن عیسیٰ کے واسطے سے عباس بن محمد دوری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(2) كذا استغربه المصنف، وتبعه على ذلك البيهقي 5/ 86 فقال: هذا غريب بهذا اللفظ، ومن قبلهما ابن خزيمة (2750) فقد قال: فإنَّ في القلب من هذا الإسناد، وأنا خائف أن يكون عبد السلام أو من دونه وهم في هذه اللفظة، أعني قوله في الطواف، وقال ابن التركماني في¤ ¤"الجوهر النقي": ولا يلزم من قول البيهقي: "غريب" عدم ثبوته، وقد شهد له ما أخرجه ابن أبي شيبة في "مصنفه" (14849 - عوامة) فقال: حدثنا يحيى بن يمان، عن سفيان، عن منصور، عن خالد بن سعد، عن أبي مسعود: أنه ﵇ استسقى وهو يطوف بالبيت، فأتي بذَنوب نبيذ السقاية فشربه.
🔍 علّت / فنی نکتہ: مصنف نے اسے "غریب" قرار دیا ہے اور بیہقی (5/86) نے بھی ان کی اتباع میں کہا کہ ان الفاظ کے ساتھ یہ غریب ہے۔ ابن خزیمہ (2750) نے کہا کہ اس سند کے بارے میں دل میں کھٹک ہے اور اندیشہ ہے کہ عبدالسلام یا ان سے نچلے درجے کے کسی راوی کو "طواف کے دوران" کے الفاظ میں وہم ہوا ہو۔ 📌 اہم نکتہ / خلاصہ: ابن الترکمانی نے "الجوہر النقی" میں کہا کہ بیہقی کے "غریب" کہنے سے اس کا غیر ثابت ہونا لازم نہیں آتا، کیونکہ ابن ابی شیبہ (14849) کی روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے کہ ابومسعودؓ نے طواف کے دوران پانی مانگا اور نبیذ پی۔
وأخرج عبد الرزاق (9766) عن صاحب له، وابن أبي شيبة (14847) عن علي بن هاشم، كلاهما عن ابن أبي ليلى، عن عكرمة بن خالد، عن رجل من آل وداعة قال: استسقى النبي ﷺ وهو يطوف بالبيت … الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: عبدالرزاق (9766) اور ابن ابی شیبہ (14847) نے عکرمہ بن خالد کے واسطے سے روایت کیا کہ آلِ وداعہ کے ایک شخص نے بتایا کہ نبی ﷺ نے طواف کے دوران پانی طلب فرمایا۔
(1) كأنه يشير إلى ما أخرجاه بلفظ آخر: البخاري (1637) و (5617)، ومسلم (2027) من طريق عامر الشعبي، أن ابن عباس حدثه قال: سقيت رسول الله ﷺ من زمزم، فشرب وهو قائم. زاد مسلم في إحدى رواياته: واستسقى وهو عند البيت.
📌 اہم نکتہ / خلاصہ: (1) غالباً اشارہ اس روایت کی طرف ہے جو بخاری (1637، 5617) اور مسلم (2027) میں عامر شعبی کے واسطے سے ہے کہ ابن عباسؓ نے نبی ﷺ کو زمزم پلایا اور آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیا۔ مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے بیت اللہ کے پاس پانی طلب فرمایا۔