🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. الحجر من البيت
حِجر (حطیم) خانۂ کعبہ ہی کا حصہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1708
أخبرنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حدثنا محمد بن سعد العَوْفي، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا ابن جُرَيج، أخبرني سليمان الأحول، أنَّ طاووسًا أخبره: أنَّ رسول الله ﷺ مَرَّ وهو يطوف بالكعبة برجل يقودُ رجلًا بخِزامةٍ في أنفه، فقَطَعَه رسول الله ﷺ بيدِه، ثم أمرَهُ أن يقودَه بيدِه، قال: ومرَّ رسول الله ﷺ وهو يطوفُ برجلٍ قد رُبِقَ بسَيْرٍ بيدٍ أو رِجْلٍ أو بخَيطٍ، أو بشيء غير ذلك، فقَطَعَه رسولُ الله ﷺ وقال:"قُدْهُ بيَدِك". قال ابن جُريج: أخبرني بهذا أجمَعَ سليمانُ الأحولُ، أنَّ طاووسًا أخبره: أنَّ ابن عباسٍ قال ذلك عن النبيِّ ﷺ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
سیدنا طاؤس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو دوسرے آدمی کو نکیل کے ساتھ چلا رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکیل کو اپنے ہاتھ سے توڑ دیا اور حکم دیا: اس کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر چلاؤ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس کے پاس سے) گزرے تو وہ اس آدمی کو طواف کرا رہا تھا اور تسمے یا دھاگے یا کسی اور چیز کے ساتھ اس نے اپنے ہاتھ یا پاؤں سے باندھ رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی کاٹ دیا اور فرمایا: اس کو ہاتھ سے چلاؤ۔ ابن جریج فرماتے ہیں: یہ تمام حدیث مجھے سلیمان الاحول نے سنائی ہے کہ طاؤس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ واقعہ بیان کیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1708]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1708 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن سعد العوفي، وقد توبع أبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد، وابن جريج: هو عبد الملك، وسليمان الأحول: هو ابن أبي مسلم.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) حدیث صحیح ہے، اور محمد بن سعد العوفی کی وجہ سے سند حسن ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابو عاصم سے مراد ضحاک بن مخلد، ابن جریج سے مراد عبدالملک اور سلیمان الاحول سے مراد ابن ابی مسلم ہیں۔
وأخرجه البخاري (1621) و (6702) عن أبي عاصم النبيل، بهذا الإسناد، مختصرًا: أنَّ النبي ﷺ رأى رجلًا يطوف بالكعبة بزمام أو غيره، فقطعه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (1621، 6702) نے ابو عاصم النبیل کی سند سے مختصراً روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو نکیل سے کعبہ کا طواف کر رہا تھا، آپ ﷺ نے اسے کاٹ دیا۔
وأخرجه تامًّا ومختصرًا أحمد 5/ (3442) و (3443)، والبخاري (1620) و (6703)، وأبو داود (3302)، والنسائي (4733) و (4734)، وابن حبان (3831) و (3832) من طرق عن ابن جريج، به. ¤ ¤ الخِزامة، بالخاء المعجمة المكسورة وتخفيف الزاي: حَلْقة من شعر أو وَبَر، تجعل في الحاجز الذي بين مَنخِرَي البعير، يُشَدُّ فيها الزِّمام ليَسهُل انقياده إذا كان صعبًا. انظر "فتح الباري" لابن حجر 21/ 230.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مکمل اور مختصراً احمد، بخاری، ابوداؤد، نسائی اور ابن حبان نے مختلف طرق سے ابن جریج سے روایت کیا ہے۔ 📝 توضیح: "خِزامہ" بالوں یا اون کا وہ چھلا ہے جو اونٹ کی ناک کے درمیان ڈالا جاتا ہے تاکہ اسے قابو کرنا آسان ہو۔ (فتح الباری 21/230)
والسَّير: هو ما يُقدُّ من الجلود.
📝 توضیح: "سیر" سے مراد چمڑے کا وہ تسمہ ہے جو کھال سے کاٹ کر بنایا جاتا ہے۔