المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
42. الوقوف بعرفات
عرفات میں وقوف کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1717
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان. وحدثني علي بن عيسى - واللفظ له - حدّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عمر، حدثنا سفيان قال: حفظتُه من عمرو بن دينار، عن عمرو بن عبد الله بن صفوان، عن خاله يزيد بن شَيْبان قال: كنّا وقوفًا من وراء المَوقِف - موقفًا يتباعدُه عمرٌو من الإمام - فأتانا ابنُ مِرْبَع الأنصاريُّ فقال: إنِّي رسولُ رسولِ الله ﷺ إليكم، يقول لكم:"كونوا على مَشَاعرِكم هذه، فإنَّكم على إرْثٍ من إرْثِ إبراهيم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا یزید بن شعبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم موقف سے پیچھے ایک ایسے مقام پر ٹھہرے ہوئے تھے جہاں سے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ امام سے کافی دور تھے، ہمارے پاس ابن مربع انصاری رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفیر بن کر آیا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لیے پیغام بھیجا ہے کہ تم اپنے ادائیگیٔ حج کے مقام پر رہو کیونکہ تم ابراہیم علیہ السلام کی وراثت پانے والے ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1717]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1717 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل عمرو بن عبد الله بن صفوان. علي بن عبد الله: هو ابن المديني، وسفيان: هو ابن عيينة، وابن أبي عمر: هو محمد بن يحيى بن أبي عمر العدني الحافظ، وابن مربع الأنصاري: هو يزيد بن مربع.
⚖️ درجۂ حدیث: عمرو بن عبداللہ کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: علی بن عبداللہ سے مراد ابن المدینی، سفیان سے ابن عیینہ، ابن ابی عمر سے العدنی الحافظ اور ابن مربع سے مراد یزید بن مربع انصاری ہیں۔
وأخرجه أحمد 28/ (17233)، وأبو داود (1919)، وابن ماجه (3011)، والترمذي (883)، والنسائي (3996) من طريق سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. قال الترمذي: حديث حسن، لا نعرفه إلّا من حديث ابن عيينة عن عمرو بن دينار.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، ترمذی اور نسائی نے ابن عیینہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن" کہا ہے۔
وفي الباب عن علي بن أبي طالب عند أحمد 2/ (562)، وأبي داود (1935)، وابن ماجه (3010)، والترمذي (885)، وإسناده حسن.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت علیؓ کی حدیث احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ اور ترمذی میں ہے اور اس کی سند "حسن" ہے۔
وعن جبير بن مطعم عند أحمد 27/ (16751)، وابن حبان (3854)، وإسناده ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: جبیر بن مطعمؓ سے بھی مروی ہے مگر اس کی سند ضعیف ہے۔