المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
43. من أتى عرفات ولم يدرك الإمام
جو عرفات آ جائے لیکن امام کو نہ پا سکے۔
حدیث نمبر: 1721
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان بن عُيينة، حدثنا سفيان بن سعيدٍ الثَّوري. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، عن سفيان، عن بُكَير بن عطاء، عن عبد الرحمن بن يَعمَر قال: أتيتُ النبيَّ ﷺ بعَرَفةَ، وأتاه ناسٌ من أهل نجدٍ وهو بعَرفةَ، فسألوه، فأمَرَ مناديًا فنادى:"الحجُّ عَرَفةُ، الحجُّ عَرَفةُ، ومن جاء ليلةَ جَمْعٍ قبل طلوع الفجر فقد أدرَكَ، أيامُ مِنى ثلاثةٌ، من تعجَّل في يومينِ فلا إثمَ عليه، ومن تأخَّر فلا إثمَ عليه"، وأردَفَ رجلًا فنادى (2) .
سیدنا عبدالرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرفات میں آیا، آپ ابھی عرفات میں ہی تھے کہ نجد کے کچھ لوگ آپ کے پاس حاضر ہوئے، انہوں نے آپ سے یہی مسئلہ دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو حکم دیا کہ منادی کر دے کہ ” حج عرفہ ہے اور جو شخص طلوع فجر سے پہلے پہلے مزدلفہ میں آ جائے، اس نے حج کو پا لیا، منٰی کے تین دن ہیں، جو جلدی کر کے دو دن میں چلا جائے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے اور جو تین دن سے زیادہ لگائے اس پر گناہ نہیں ہے “ اس شخص نے ایک آدمی کو اپنے پیچھے بٹھایا اور یہ منادی کر دی۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1721]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1721 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. أبو بكر بن إسحاق اسمه: أحمد، والحميدي: هو عبد الله بن الزبير الأسدي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابوبکر بن اسحاق کا نام احمد ہے اور حمیدی سے مراد عبداللہ بن زبیر الاسدی ہیں۔
وأخرجه الترمذي (890) و (2975)، والنسائي (3998)، وابن حبان (3892) من طرق عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. قال الترمذي: حديث حسن صحيح. ثم قال: قال ابن أبي عمر - يعني شيخ الترمذي فيه -: قال سفيان بن عيينة: وهذا أجود حديث رواه سفيان الثوري. وقال ابن حبان: قال ابن عيينة: فقلت لسفيان الثوري: ليس عندكم بالكوفة حديث أشرف ولا أحسن من هذا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے سفیان بن عیینہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا۔ سفیان بن عیینہ کے بقول یہ سفیان ثوری کی روایت کردہ بہترین حدیث ہے۔
وأخرجه الترمذي (889) عن محمد بن بشار، عن عبد الرحمن بن مهدي، به. ¤ ¤ وأخرجه أحمد (18774) و (18954)، وأبو داود (1949)، وابن ماجه (3015) و (3015 م)، والترمذي (889)، والنسائي (3997) و (4036) من طرق عن سفيان الثوري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، ترمذی اور نسائی نے سفیان ثوری کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (3137) من طريق شعبة، عن بكير بن عطاء، ويأتي تخريجه هناك.
🔁 تکرار: یہ حدیث آگے نمبر (3137) پر شعبہ عن بکیر بن عطا کے طریق سے آئے گی اور وہیں اس کی تخریج بھی دی جائے گی۔