🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. من أتى عرفات ولم يدرك الإمام
جو عرفات آ جائے لیکن امام کو نہ پا سکے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1720
حدَّثَناه عبد الصَّمد بن علي بن مُكْرَم البزَّاز ببغداد، حدثنا أبو عبد الله أحمد بن عبد الله بن أحمد بن حسان التُّسْتَري بتُسْتَر، حدثنا عبد الوهاب بن فُلَيح المكِّي، حدثنا يوسف بن خالد السَّمْتي البصري، حدثنا هشام بن عُروة، عن أبيه، عن عُروة بن مُضَرِّس الطائي قال: جئتُ رسولَ الله ﷺ وهو بالمَوقِف، فقلت: يا رسول الله، أتيتُ من جَبَلَي طيِّئ، أكلَلْتُ مَطِيَّتي، وأتعبتُ نفسي، والله ما بقي من حَبْلٍ من تلك الحِبال إلَّا وقفتُ عليه، فقال:"مَن أدرَكَ معنا هذه الصلاةَ - يعني صلاةَ الغَداة - وقد أتى عَرَفةَ قبل ذلك ليلًا أو نهارًا، فقد تمَّ حجُّه وقضى تَفَثَه" (1) . وقد تابع عروةَ بن المُضرِّس في رواية هذه السُّنة من الصحابة عبدُ الرحمن بن يَعْمَرَ الدُّؤَلي:
سیدنا ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ مزدلفہ میں تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جبل طے سے آیا ہوں۔ میں خود بھی تھک چکا ہوں اور میں نے اپنے اونٹ کو بھی تھکا دیا ہے۔ خدا کی قسم! میں نے پہاڑوں میں سے ہر پہاڑ پر وقوف کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ یہ نماز پائی یعنی فجر کی نماز اور اس سے قبل وہ دن یا رات میں عرفات میں آیا ہو تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس کی میل کچیل دور ہو گئی۔ ٭٭ صحابہ رضی اللہ عنہم کی سنت بیان کرنے میں عروہ بن مضرس نے عبدالرحمن بن یعمر کی متابعت کی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1720]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1720 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده تالف، يوسف بن خالد السَّمْتي متهم، قال الذهبي في "تلخيص المستدرك": السمتي ليس بثقة، وقال الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" 11/ 161: هذه الرواية لا تسوى شيئًا، فإنَّ يوسف بن خالد قد اتهموه بالوضع، فلا يصلح الاستشهاد به.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (تباہ شدہ/سخت ضعیف) ہے۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: یوسف بن خالد السمیتی متہم (جس پر جھوٹ کی تہمت ہو) راوی ہے۔ ابن حجر کے مطابق یہ روایت کسی کام کی نہیں کیونکہ یوسف پر حدیث گھڑنے (وضع) کا الزام ہے، لہذا یہ بطور شاہد بھی پیش نہیں کی جا سکتی۔
ولم نقف على هذه الطريق عند غير الحاكم، والله أعلم.
🔍 فنی نکتہ: ہمیں یہ طریق امام حاکم کے علاوہ کہیں اور نہیں ملا۔ واللہ اعلم۔