🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. من أتى عرفات ولم يدرك الإمام
جو عرفات آ جائے لیکن امام کو نہ پا سکے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1719
وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق البَصْري بمصر، حدثنا وَهْب بن جَرير، عن شعبة، عن إسماعيل بن أبي خالد. وأخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد المعدِّل بمَرْو - واللفظ له - أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا إسماعيل بن أبي خالد، عن الشَّعبي، عن عُرْوة بن مُضَرِّس الطائي قال: أتيتُ رسولَ الله ﷺ وهو واقفٌ بجَمْع، فقلت: يا رسول الله، جئتُك من جَبَلَي طيِّئ، وقد أكلَلْتُ مَطِيَّتي وأتعبتُ نفسي، واللهِ ما تركتُ من حَبْلٍ (1) إِلَّا وقفتُ عليه، فهل لي من حجٍّ؟ فقال رسولُ الله ﷺ:"مَن أدرَكَ معنا هذه الصلاةَ وقد أتى عَرَفاتٍ قبلَ ذلك ليلًا أو نهارًا، فقد قَضَى تَفَثَه وحَجَّه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط كافَّة أئمة الحديث، وهي قاعدة من قواعد الإسلام، وقد أمسك عن إخراجه الشيخان محمدُ بنُ إسماعيل ومسلم بن الحجّاج ﵄، على أصلهما أنَّ عُرْوة بن مُضرِّس لم يحدِّث عنه غيرُ عامرٍ الشَّعبي (3) ، وقد وجدنا عُروةَ بن الزُّبير بن العوَّام حدَّث عنه:
سیدنا عروہ بن مضرس طائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اس وقت آپ مزدلفہ میں تھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جبل طے سے آیا ہوں۔ میں خود بھی تھک چکا ہوں اور میرا اونٹ بھی تھک چکا ہے۔ خدا کی قسم! میں نے ہر پہاڑ پر وقوف کیا ہے، کیا میرا حج ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ اس نماز کو پا لیا اور وہ اس سے پہلے دن یا رات میں عرفات میں آ چکا ہو۔ اس نے اپنی میل کچیل دور کر دی (یعنی اس کے مناسک پورے ہو چکے، اب وہ بال اور ناخن وغیرہ کٹوا سکتا ہے) اور اس کا حج ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث بہت سارے اَئمہ حدیث کے معیار پر صحیح ہے اور یہ اسلام کی بنیادوں میں سے ایک ہے۔ لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اس اصول کی وجہ سے نقل نہیں کیا کہ یہ حدیث عروہ بن مضرس سے عامر شعبی کے علاوہ اور کسی نے روایت نہیں کی۔ جبکہ ہمارے پاس یہی حدیث عروہ بن مضرس سے عروہ بن زبیر بن عوام کی روایت کردہ ہے (ان کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1719]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1719 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تصحفت في المطبوع إلى: جبل، بالجيم، والصواب: حَبْل، بالحاء المهملة وسكون الباء الموحدة، والحَبْل: هو المستطيل من الرمل، قال الترمذي: إذا كان من رمل يقال له: حَبْل، وإذا كان من حجارة يقال له: جَبَل.
🔍 فنی نکتہ: مطبوعہ نسخے میں لفظ "جبل" (پہاڑ) تحریف ہو گیا ہے، درست لفظ "حَبْل" (ریت کا لمبا ٹیلہ) ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ریت ہو تو 'حبل' اور پتھر ہوں تو 'جبل' کہلاتا ہے۔
(2) إسناده صحيح. أبو الموجه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان بن جبلة، وعبد الله: هو ابن المبارك.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابو الموجه سے مراد محمد بن عمرو فزاری، عبدان سے عبداللہ بن عثمان اور عبداللہ سے مراد ابن المبارک ہیں۔
وأخرجه أحمد 26/ (16208)، وأبو داود (1950)، وابن ماجه (3016)، والترمذي (891)، والنسائي (4034) و (4035)، وابن حبان (3851) من طرق عن إسماعيل بن أبي خالد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے اسماعیل بن ابی خالد کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(3) انظر تعليقنا على هذه المسألة عند الحديث رقم (97).
🔍 ہدایت: اس مسئلہ پر ہمارا تبصرہ حدیث نمبر (97) کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔