🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. طواف الوداع
طوافِ وداع کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1742
أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد المعدَّل بمَرْو، حدثنا أبو المُوجِّه، أخبرنا أبو عمّار. وحدثنا أبو علي الحسين بن عليٍّ الحافظ، أخبرنا زكريا بن يحيى السَّاجي، حدثنا محمد بن زُنْبور ومحمد بن عمرو بن سليمان؛ قالوا: حدثنا عيسى بن يونس، عن عُبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمرَ قال: إذا نَفَرَ أحدُكم فليكن آخرُ عهدِه بالبيت، إلَّا الحُيَّض، فإنَّ رسول الله ﷺ رَخَّصَ لهنّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب تم میں سے کوئی شخص (حج کے لیے) جائے تو اس کو چاہیے کہ سب سے آخری کام بیت اللہ کا طواف کرے، سوائے حیض والی عورتوں کے، کیونکہ ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت عنایت فرمائی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1742]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1742 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو الموجه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وأبو عمار: هو الحسين بن حريث، وعيسى بن يونس: هو ابن أبي إسحاق الفزاري، ونافع: هو مولى ابن عمر.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابو الموجه سے مراد محمد بن عمرو الفزاری، ابو عمار سے الحسین بن حریث، عیسیٰ بن یونس سے مراد ابن ابی اسحاق اور نافع سے مراد مولیٰ ابن عمر ہیں۔
وأخرجه الترمذي (944) عن أبي عمار، بهذا الإسناد. وقال: حديث حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (944) نے ابو عمار کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
وأخرجه النسائي (4182)، وابن حبان (3899) من طريقين عن عيسى بن يونس، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (4182) اور ابن حبان (3899) نے عیسیٰ بن یونس کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 10/ (5765)، والبخاري (330) و (1760)، والنسائي (4186) من طريق وهيب بن خالد، عن عبد الله بن طاووس، عن أبيه: كان ابن عمر يقول في أول أمره: إنها لا تَنفِر، ثم سمعته يقول: إنَّ رسول الله ﷺ رخص لهن. لفظ البخاري. ¤ ¤ وقد أعلَّ الدارقطني في "علله" (2943) حديث نافع عن ابن عمر هذا فقال: تفرد به عيسى بن يونس عن عبيد الله، وروى الزهري عن طاووس عن ابن عمر أنه كان يفتي بضد هذا، حتى كان بعد سنة قال: زعموا أنه رخص للحائض، ولم يذكر النبي ﷺ. ثم قال الدارقطني: وقول الزهري عن طاووس أصح. قلنا: حديث الزهري لم نقع عليه باللفظ الذي أورده الدارقطني، بل قد أخرجه الطحاوي موافقًا لحديث نافع عن ابن عمر، فقد رواه في "شرح معاني الآثار" 2/ 235، وفي "أحكام القرآن" (1322) من طريق الليث بن سعد، عن عقيل بن خالد، عن الزهري، عن طاووس: أنه سمع عبد الله بن عمر يُسأل عن حبس النساء عن الطواف بالبيت إذا حضن قبل النفر، وقد أفضن يوم النحر، فقال: إنَّ عائشة كانت تذكر من رسول الله ﷺ رخصة للنساء؛ وذلك قبل موت عبد الله بن عمر بعام.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، بخاری (330) اور نسائی نے عبداللہ بن طاؤس کے طریق سے روایت کیا کہ ابن عمرؓ پہلے سختی کرتے تھے پھر انہوں نے نبی ﷺ کی رخصت سنی۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: دارقطنی نے نافع کی روایت پر کلام کیا ہے، مگر طحاوی کی 'شرح معانی الآثار' (2/235) میں زہری عن طاؤس کی روایت نافع کی تائید کرتی ہے کہ ابن عمرؓ نے اپنی وفات سے ایک سال پہلے حائضہ عورت کے لیے رخصت بیان کی تھی۔
ويؤيد رفعه أيضًا طريق وهيب بن خالد عن عبد الله بن طاووس عن أبيه عن ابن عمر المذكورة آنفًا، وقد أخرجها البخاري في "الصحيح".
📌 اہم نکتہ: امام بخاری کی روایت (وہيب بن خالد عن عبداللہ بن طاؤس) بھی اس کے مرفوع ہونے کی تائید کرتی ہے۔
وما أخرجه النسائي (4183) من طريق إبراهيم بن ميسرة، عن طاووس، عن ابن عمر: أنه كان يقول قريبًا من سنتين: لا تنفر حتى يكون آخر عهدها بالبيت، ثم قال ابن عمر بعد: تنفر؛ إنه رخص للنساء.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (4183) نے ابراہیم بن میسرہ کے طریق سے روایت کیا کہ ابن عمرؓ دو سال تک (سختی کا) فتویٰ دیتے رہے پھر انہوں نے رخصت کا قول اختیار کیا۔
وأخرج ابن ماجه (3071) من طريق إبراهيم بن يزيد، عن طاووس، عن ابن عمر قال: نهى رسول الله ﷺ أن ينفر الرجل حتى يكون آخر عهده بالبيت. وإبراهيم بن يزيد هذا متروك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (3071) نے ابراہیم بن یزید کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر ابراہیم بن یزید "متروک" راوی ہے۔
وفي الباب عن ابن عباس عند البخاري (329)، ومسلم (1328).
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں ابن عباسؓ کی حدیث بخاری (329) اور مسلم (1328) میں موجود ہے۔
وعن عائشة عند البخاري (1757)، ومسلم (1211).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت عائشہؓ سے بھی یہ روایت بخاری (1757) اور مسلم (1211) میں مروی ہے۔