🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
54. من كسر أو عرج فقد حل وعليه الحج فى قابل
جو ٹوٹ جانے یا لنگڑا ہونے کی وجہ سے (احرام سے) کھل جائے، اس پر آئندہ سال حج لازم ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1744
أخبرنا أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكوفة، حدثنا محمد بن عثمان بن محمد العَبْسي، حدثنا أبي، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا سفيان الثَّوري، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابرٍ قال: حَجَّ النبيُّ ﷺ حَجَّتينِ قبلَ أن يُهاجِر - يعني - وحَجَّ بعدما هاجَرَ حَجَّةً قَرَنَ معها عُمرةً (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت سے پہلے دو حج کیے اور ہجرت کے بعد ایک حج کیا لیکن اس کے ہمراہ عمرہ بھی کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1744]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1744 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح، أبو بكر بن أبي دارم متكلم فيه، لكنه قد توبع. جعفر بن محمد: هو ابن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب، وهو جعفر الصادق.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔ ابوبکر بن ابی دارم اگرچہ کلام زدہ ہیں مگر یہاں ان کی متابعت موجود ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: جعفر بن محمد سے مراد امام جعفر صادق ہیں۔
وقد أعلَّ البخاري هذا الحديث فيما نقله عنه الترمذي في "جامعه" بإثر (815)، والبيهقي في "سننه الكبرى" 5/ 12 بما حاصله: أنَّ زيد بن الحباب أخطأ فيه، وأنَّ المحفوظ رواية الثوري له عن أبي إسحاق عن مجاهد مرسلًا، وأقرَّ كلٌّ من الترمذي والبيهقي الإمامَ البخاريَّ فيما نقلاه عنه، لكن صحَّح ابنُ خزيمة هذا الخبر في "صحيحه" (3056)، ثم ذكر بعده ترجمة أخرى قال ¤ ¤ فيها: باب ذكر الدليل على صحة هذا المتن، والبيان أنَّ النبي ﷺ قد حجَّ قبل هجرته إلى المدينة، لا كما من طعن في هذا الخبر وادَّعى أنَّ هذا الخبر لم يروه غير زيد بن الحباب، ثم ذكر حديث جبير بن مُطعِم أنه رأى رسول الله ﷺ قبل أن يُنزَل عليه وإنه لَواقفٌ على بعيرٍ له بعرفات مع الناس يدفع معهم.
🔍 علّت / فنی نکتہ: امام بخاری نے اس روایت پر جرح کی ہے کہ زید بن الحباب کو اس میں وہم ہوا ہے اور محفوظ بات یہ ہے کہ یہ روایت سفیان ثوری عن ابی اسحاق عن مجاہد سے "مرسل" ہے۔ 📌 اہم نکتہ / خلاصہ: ابن خزیمہ نے اس خبر کو صحیح قرار دیا ہے اور دلیل دی ہے کہ نبی ﷺ نے ہجرت سے پہلے حج کیے تھے، جیسا کہ جبیر بن مطعمؓ کی گواہی سے ثابت ہے کہ انہوں نے آپ ﷺ کو عرفات میں وقوف کرتے دیکھا تھا۔
وأجاب ابن كثير في "البداية والنهاية" 7/ 473 بجواب مكين أيضًا، وهو أنَّ ابن ماجه رواه من طريق عبد الله بن داود الخريبي عن سفيان الثوري. ثم قال ابن كثير: وهذه الطريق لم يقف عليها الترمذي ولا البيهقي، وربما ولا البخاري حيث تكلم في زيد بن الحُباب ظانًا أنه انفرد به، وليس كذلك.
🔍 تحقیقی دفاع: حافظ ابن کثیر نے 'البدایہ والنہایہ' (7/473) میں مضبوط جواب دیا کہ امام ابن ماجہ نے اسے عبد اللہ بن داؤد الخریبی کے واسطے سے سفیان ثوری سے روایت کیا ہے (جو زید بن الحباب کے علاوہ ہیں)۔ بظاہر امام بخاری، ترمذی اور بیہقی کو الخریبی والے اس طریق کا علم نہیں ہو سکا تھا۔
قلنا: وهو كما قال ابن كثير، وسيأتي الحديث من طريق الخُريبي برقم (4430)، وإذا انضم إليه حديث جبير بن مطعم الذي سلف عند المصنف برقم (1722) صح الخبر بيقين، ثم إنَّ سفيان الثوري كان واسع الرواية فلا تُعِلُّ إحدى روايتيه الرواية الأخرى، والله أعلم.
📌 اہم نکتہ / خلاصہ: جیسا کہ ابن کثیر نے کہا، یہ روایت آگے نمبر (4430) پر الخریبی کے طریق سے آئے گی، اور جب اسے جبیر بن مطعمؓ کی سابقہ روایت (1722) کے ساتھ ملایا جائے تو یہ خبر یقینی طور پر صحیح ثابت ہوتی ہے۔ سفیان ثوری کی وسعتِ علمی کی وجہ سے ان کی ایک روایت دوسری کے منافی نہیں۔
وأخرجه الترمذي (815) عن عبد الله بن أبي زياد القطواني، عن زيد بن الحباب، بهذا الإسناد، بأطول مما هنا بنحو لفظ الخريبي الآتي عند المصنِّف.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (815) نے زید بن الحباب کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ یہاں سے زیادہ تفصیلی الفاظ میں روایت کیا ہے۔