🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. خطبة النبى صلى الله عليه وآله وسلم فى حجة الوداع
نبی ﷺ کا حجۃ الوداع میں خطبہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1760
أخبرنا أبو الحسن علي بن عيسى بن إبراهيم، حدثنا أحمد بن النَّضْر بن عبد الوهاب، حدثنا يحيى بن أيوب، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أبي، عن محمد بن إسحاق، حدثنا ابن أبي نَجِيح، عن مجاهدٍ وعطاءٍ، عن جابر بن عبد الله قال: كَثُرَت القالةُ من الناس، فخرجنا حُجّاجًا، حتى إذا لم يكن بيننا وبين أن نَحِلَّ إلَّا ليالي (3) قلائلُ أُمِرْنا بالإحلال، فيَرُوحُ أحدُنا إلى عَرَفَة وفَرْجُه يَقطُرُ مَنيًّا، فبلغ ذلك رسولَ الله ﷺ، فقام خطيبًا فقال:"أبالله تُعَلِّموني أيها الناسُ، فأنا واللهِ أعلَمُكُم بالله وأتقاكم له، ولو استقبلتُ من أَمري ما استَدبرتُ ما سُقْتُ هَدْيًا، ولَحَلَلتُ كما أحَلُّوا، فمَن لم يكن معه هديٌ فليصمْ ثلاثةَ أيامٍ وسبعةً إذا رَجَعَ إلى أهله، ومن وَجَدَ هديًا فليَنْحَر"، فكنا ننحرُ الجَزُورَ عن سبعة (4) .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: لوگوں میں چہ میگوئیاں زیادہ ہو گئیں کیونکہ ہم حج کرنے کے لیے نکلے تھے تقریباً تمام مناسک حج ادا کر لیے تھے اور احرام کھولنے میں ابھی چند دن باقی تھے۔ لیکن اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام کھولنے کا حکم دے دیا، (ایک صحابی نے کہا) ہم میں سے کوئی شخص عرفہ کی طرف اس حال میں روانہ ہو گا کہ اس کے آلہ تناسل سے منی کے قطرے ٹپک رہے ہوں (دراصل وہ لوگ حج کے ایام میں عمرہ ناجائز سمجھتے تھے اور یہ بات کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ابھی تو ہم بیویوں سے جماع کر کے آئیں ہیں گویا کہ ابھی تو جماع کے اثرات باقی ہیں اور ان کے ذکر سے قطرے ٹپک رہے ہیں)۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! تم مجھے اللہ کے بارے علم سکھاتے ہو؟ خدا کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جانتا ہوں اور تم سب سے زیادہ ڈرتا ہوں اور جو معاملہ تمہارے ساتھ پیش آیا ہے اگر اس بات کے متعلق پہلے ہی حکم نازل ہو گیا ہوتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا اور میں احرام کھول دیتا جیسا کہ ان لوگوں نے کھولا، اس لیے جس کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو، اس کو چاہیے کہ تین روزے وہیں پر اور سات روزے اپنے گھر والوں کے پاس جب لوٹے تب رکھ لے اور جس کو قربانی کا جانور میسر ہو، اس کو چاہیے کہ وہ قربانی کرے۔ چنانچہ ہم نے ایک اونٹ سات افراد کی جانب سے قربان کیا۔ عطاء فرماتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم میں مال غنیمت تقسیم کیا۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک بکرا آیا جو انہوں نے اپنی طرف سے ذبح کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ میں وقوف کیا تو ربیعہ بن امیہ بن خلف کو حکم دیا تو وہ آپ کی اونٹنی کے آگے کھڑے ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: تم بلند آواز میں لوگوں سے کہو: اے لوگو! کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: یہ حرمت والا مہینہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: یہ حرمت والا شہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ یہ جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: حج اکبر کا دن ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس طرح یہ مہینہ، یہ شہر اور یہ دن حرمت والا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہارے مال اور خون حرام کیے ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج ادا کیا اور جب عرفات میں ٹھہرے تو فرمایا: یہ ٹھہرنے کی جگہ ہے اور پورا میدان عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے، اور جب آپ مزدلفہ میں ٹھہرے تو فرمایا: یہ ٹھہرنے کی جگہ ہے اور پورا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور اس حدیث میں اس کے بھی الفاظ موجود ہیں: جس کو جعفر بن محمد صادق نے اپنے والد کے واسطے سے جابر سے روایت کیا ہے اور اس میں کئی الفاظ کا اضافہ بھی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1760]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1760 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) كذا أثبت الياء في حالة الرفع، وهو جائز على قلة استعماله.
📝 توضیح: لفظ 'الياء' کو حالتِ رفع میں ثابت رکھا گیا ہے، جو کہ عربی میں جائز ہے اگرچہ استعمال کم ہے۔
(4) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار - وقد توبع. ¤ ¤ يحيى بن أيوب: هو المقابري، ووهب بن جرير: هو ابن حازم الأزدي، وابن أبي نجيح: هو عبد الله، ومجاهد: هو ابن جبر المكي، وعطاء: هو ابن أبي رباح.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور محمد بن اسحاق کی وجہ سے سند "حسن" ہے، نیز ان کی متابعت موجود ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: یحییٰ بن ایوب سے مراد المقابری، وہب بن جریر سے مراد ابن حازم اور ابن ابی نجیح سے مراد عبداللہ ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 5/ 23، وفي "السنن الصغرى" (1718) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے اپنی دونوں کتب (الکبریٰ اور الصغریٰ) میں ابوعبداللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (2926) و (2927) عن أحمد بن المقدام، عن وهب بن جرير، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (2926) نے وہب بن جریر کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا بقصة الأمر بالإحلال أحمد 23/ (14833) و (14931)، والبخاري (1570)، ومسلم (1216) (146) من طريق أيوب، عن مجاهد وحده، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، بخاری (1570) اور مسلم نے ایوب عن مجاہد کے طریق سے احرام کھولنے کے حکم کے قصے کے ساتھ مختصراً روایت کیا ہے۔
وأخرجه مطولًا ومختصرًا أحمد 22/ (14238) و (14239) و (14279) و (14409) و 23/ (14900) و (14942) و (14943)، والبخاري (1568) و (1651) و (1785) و (2505) و (7230) و (7367)، ومسلم (1216)، وأبو داود (1787) و (1788) و (1789)، وابن ماجه (2980)، والنسائي (3773) و (3971) و (4157)، وابن حبان (3791) و (3921) من طرق عن عطاء، عن جابر، وبعضهم يزيد فيه ألفاظًا أخرى ليست عند البعض.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، ابن ماجہ، نسائی اور ابن حبان نے مختلف طرق سے عطا عن جابرؓ کی سند سے مفصل و مختصر روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 23/ (14923) من طريق أبي سفيان، عن جابر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے ابو سفیان عن جابرؓ کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔
وأخرج معظمه - يعني بألفاظ حديث جابر هذا، وحديث ابن عباس الآتي بعده - ضمن حديث جابر الطويل في الحج: أحمد 22/ (14440)، ومسلم (1218)، وأبو داود (1905)، وابن ماجه (3074)، وابن حبان (3944) من طريق جعفر بن محمد الصادق، عن أبيه محمد بن علي الباقر، عن جابر.
🧾 تفصیلِ روایت: اس کے اکثر الفاظ امام جعفر صادق عن امام باقر عن حضرت جابرؓ کی اس طویل حدیث میں موجود ہیں جو حج کے متعلق مروی ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (7749) من طريق أبي الزبير عن جابر قال: نحرنا يوم الحديبية سبعين بدنة، البدنة عن عشرة، وقال رسول الله ﷺ: ليشترك النفرُ في الهدي"، ويأتي تخريجه هناك.
🔁 تکرار: یہ روایت آگے نمبر (7749) پر ابو الزبیر عن جابرؓ کے طریق سے آئے گی کہ ہم نے حدیبیہ کے دن 70 اونٹ ذبح کیے اور ایک اونٹ دس افراد کی طرف سے تھا۔

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1760M
قال عطاء (1) : قال ابنُ عباس: إنَّ رسول الله ﷺ قَسَمَ يومئذٍ في أصحابه غنمًا، فأصاب سعدَ بنَ أبي وقاصٍ تَيْسٌ، فذَبَحه عن نفسه، فلمّا وقف رسولُ الله ﷺ بعَرَفةَ أَمَرَ ربيعةَ بن أُمية بن خلف فقام تحت يَدَي ناقتِه، فقال له النبيُّ ﷺ:"اصرُخْ: أيها الناس، هل تَدْرُونَ أيُّ شهرٍ هذا؟" قالوا: الشهرُ الحرام، قال:"فهل تَدرونَ أيُّ بلدٍ هذا؟" قالوا: البلد الحرام، ثم قال:"هل تَدرونَ أيُّ يومٍ هذا؟" قالوا: يومُ الحجِّ الأكبر، فقال رسول الله ﷺ:"قد حرَّم الله عليكم دِماءَكم، وأموالَكم كحُرمةِ شهرِكم هذا، وكحُرمةِ بلدِكم هذا، وكحُرمةِ يومِكم هذا"، فقضى رسولُ الله ﷺ حَجَّه، وقال حين وَقَفَ بعَرَفةَ:"هذا الموقفُ، وكلُّ عرفةَ موقفٌ"، وقال حين وقف على قُزَحَ:"هذا الموقفُ، وكلُّ المزدلفةِ موقفٌ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وفيه ألفاظٌ من ألفاظِ حديث جعفر بن محمد الصادق عن أبيه عن جابر، وفيه أيضًا زيادةُ ألفاظٍ كثيرة.
عطاء بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن اپنے صحابہ میں بکریاں تقسیم کیں، تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک نر بکرا (تیس) آیا جسے انہوں نے اپنی طرف سے ذبح کر دیا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ میں ٹھہرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیعہ بن امیہ بن خلف کو حکم دیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے سامنے کھڑے ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: لوگوں میں پکار کر کہو: کیا تم جانتے ہو یہ کون سا مہینہ ہے؟ انہوں نے کہا: حرمت والا مہینہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے؟ انہوں نے کہا: حرمت والا شہر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟ انہوں نے کہا: حجِ اکبر کا دن۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہارے خون اور تمہارے مال (ایسے ہی) حرام کر دیے ہیں جیسے تمہارے اس مہینے کی، تمہارے اس شہر کی اور تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔ یوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حج مکمل فرمایا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدانِ عرفات میں ٹھہرنے کے دوران فرمایا: یہ (خاص جگہ) ٹھہرنے کی جگہ ہے اور پورا عرفہ ہی ٹھہرنے کی جگہ (موقف) ہے۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ’قزح‘ (مزدلفہ کی ایک پہاڑی) پر ٹھہرے تو فرمایا: یہ ٹھہرنے کی جگہ ہے اور پوری مزدلفہ ہی ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ امام حاکم فرماتے ہیں: یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے مگر شیخین نے اسے نقل نہیں کیا، اس میں جعفر بن محمد الصادق کی اپنے والد کے واسطے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث جیسے الفاظ بھی ہیں اور بہت سے زائد الفاظ بھی موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1760M]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1760M پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) هو موصول بالإسناد السابق.
📌 اہم نکتہ: یہ سابقہ سند سے متصل ہے۔
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن كسابقه.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور سند "حسن" ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (2926) و (2927) عن أحمد بن المقدام، عن وهب بن جرير، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ نے احمد بن المقدام عن وہب بن جریر کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو القاسم البغوي في "معجم الصحابة" (757) عن أبي الأشعث أحمد بن المقدام العجلي، والطبراني في "الكبير" (11399) - وعنه الضياء المقدسي في "المختارة" 11/ (236) - من طريق محمد بن يحيى القطعي، كلاهما عن وهب بن أبي نجيح، عن عطاء، به. ولم يذكر أبو الأشعث عبدَ الله بنَ أبي نجيح، فلا ندري هل هي روايته أم أنه سقطٌ في مطبوعة "الصحابة"؟ ورواه أبو الأشعث مرة عن عبيد بن عقيل عن جرير بن حازم، بالإسناد المذكور، وهو تحويل في سند البغوي (757)، فيبقى الاحتمال قائمًا، والله أعلم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بغوی اور طبرانی (11399) نے وہب بن ابی نجیح کے طریق سے روایت کیا ہے۔ بغوی کے نسخے میں عبداللہ بن ابی نجیح کا نام ساقط ہے، ممکن ہے یہ مطبع کی غلطی ہو۔
وأخرج أحمد 5/ (2802) من طريق ابن جريج قال: أخبرني عكرمة مولى ابن عباس، زعم أن ابن عباس أخبره: أن النبيَّ ﷺ قسم غنمًا يوم النحر في أصحابه، وقال: "اذبحوها لعمرتكم، فإنها تجزئ عنكم" فأصاب سعد بن أبي وقاص تيسًا. وهذا إسناد منقطع؛ فإن ابن جريج لم يلق ابن عباس، وكنا قد صححناه في "المسند" - سهوًا - على شرط البخاري، فيستدرك من هنا.
🔍 علّت / فنی نکتہ: ابن جریج کی عکرمہ عن ابن عباسؓ والی روایت منقطع ہے کیونکہ ابن جریج کی ملاقات ابن عباسؓ سے نہیں ہوئی۔ 📝 توضیح: ہم نے "مسند احمد" میں سہو سے اسے بخاری کی شرط پر صحیح کہہ دیا تھا، یہاں اس کی اصلاح کی جاتی ہے۔
وقوله ﷺ: "هذا الموقف وكل عرفة موقف … " إلى آخره، روي أيضًا من حديث جابر، فقد أخرجه أحمد 22/ (14498)، وأبو داود (1937)، وابن ماجه (3048) من طريق أسامة بن زيد عن عطاء، ومسلم (1218) (149)، وأبو داود (1907 - 1909)، والنسائي (4037) من طريق جعفر بن محمد الصادق عن أبيه، وابن ماجه (3012) من طريق محمد بن المنكدر، ثلاثتهم (عطاء ومحمد الباقر ومحمد بن المنكدر) عن جابر، رفعه.
🧩 متابعات و شواہد: قول "یہ بھی وقوف کی جگہ ہے اور پورا عرفہ وقوف کی جگہ ہے" حضرت جابرؓ کی مسند سے احمد، ابوداؤد اور مسلم وغیرہ میں مختلف طرق سے مروی ہے۔