🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. خطبة النبى صلى الله عليه وآله وسلم فى حجة الوداع
نبی ﷺ کا حجۃ الوداع میں خطبہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1761
أخبرنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن هشام بن حسان، عن أنس بن سِيرين، عن أنس بن مالكٍ أنه قال: لما رَمَى رسول الله ﷺ الجَمْرةَ ونَحَر هَدْيَه، ناوَلَ الحالقَ شِقَّهُ الأَيمنَ فحَلَقَه، ثم ناوَلَهُ الشِّقَّ الأيسَرَ فحَلَقَه، ثم ناوَلَهُ أبا طلحةَ وأَمره أن يَقْسِمَه بين الناس (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب شیطان کو کنکریاں مار لیں اور اپنا قربانی کا جانور ذبح کر لیا اور حلق کروا لیا تو ابوطلحہ کو بلا کر وہ (موئے مبارک) لوگوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1761]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1761 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، إلّا أنَّ ذكر أنس بن سيرين في هذا الإسناد وهمٌ، والمحفوظ أنه من رواية محمد بن سيرين وليس أنسًا، وذلك لأمور:
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، مگر اس سند میں 'انس بن سیرین' کا ذکر وہم ہے، محفوظ بات یہ ہے کہ یہ 'محمد بن سیرین' کی روایت ہے۔
الأول: أنَّ الحديث مخرَّج في "مسند الحميدي" نفسه (1254)، وهو برواية بشر بن موسى أيضًا، ويرويه عن بشر أبو علي الصواف الموصوف بأنه كان من أهل التحرز، وقد قال فيه: محمد بن سيرين.
🔍 فنی نکتہ: پہلا ثبوت یہ ہے کہ خود "مسند حمیدی" (1254) میں یہ روایت موجود ہے اور وہاں صراحت کے ساتھ 'محمد بن سیرین' کا نام درج ہے۔
الأمر الثاني: أنه قد رواه عن الحميدي اثنان من الثقات، وهما: محمد بن إسماعيل أبو إسماعيل الترمذي عند أبي عوانة (3230)، وحاتم بن ميمون عند ابن المنذر في "الأوسط" (586)، فقالا فيه: محمد بن سيرين، لكن أبا إسماعيل قال: ابن سيرين، وإذا أُطلق فإنما يراد به محمدًا.
🔍 فنی نکتہ: دوسرا ثبوت یہ کہ حمیدی کے دو ثقہ شاگردوں (ابو اسماعیل اور حاتم بن میمون) نے بھی 'محمد بن سیرین' (یا صرف ابن سیرین) ہی کہا ہے۔
الأمر الثالث: أنَّ البيهقي رواه في "السنن الكبرى" 5/ 134 عن أبي عبد الله الحاكم نفسه عن علي بن محمد بن سختويه عن بشر بن موسى عن الحميدي بهذا الإسناد، وقال فيه: ابن سيرين. قلنا: يعني محمدًا كما هو مشهور.
🔍 فنی نکتہ: تیسرا ثبوت یہ کہ بیہقی نے جب اسے امام حاکم کی اسی سند سے نقل کیا تو وہاں بھی 'ابن سیرین' ہی لکھا، جس سے مراد محمد بن سیرین ہی مشہور ہیں۔
الأمر الرابع: أنه قد رواه عن سفيان - وهو ابن عيينة - جمعٌ غير الحميدي، كما رواه عن هشام ابن حسان جمعٌ غير سفيان، وكلهم قال: محمد بن سيرين، وبعضهم: ابن سيرين.
🔍 فنی نکتہ: چوتھا ثبوت یہ کہ سفیان بن عیینہ اور ہشام بن حسان کے دیگر تمام شاگردوں نے بھی 'محمد بن سیرین' ہی بیان کیا ہے۔
أما ما رواه البيهقي في "السنن الكبرى" 2/ 427 عن الحسين بن محمد الروذباري عن محمد بن بكر عن أبي داود عن محمد بن العلاء عن حفص عن هشام عن أنس بن سيرين عن أنس بن مالك، فذكر الحديث، فذِكر أنس بن سيرين هنا خطأ من النساخ جزمًا، وذلك لأمرين:
🔍 علّت / فنی نکتہ: بیہقی کی ایک روایت میں جو 'انس بن سیرین' کا نام آیا ہے، وہ یقیناً کاتب کی غلطی ہے کیونکہ بیہقی نے خود اسے بخاری و مسلم کے حوالے سے ذکر کیا ہے جہاں نام 'محمد بن سیرین' ہی ہے۔
الأول: أنَّ البيهقي قال بإثره: رواه مسلم في "الصحيح" عن محمد بن العلاء أبي كريب، وأخرجه البخاري من وجه آخر عن ابن سيرين. قلنا: وروايتا "الصحيحين" اللتان أشار إليهما البيهقي إنما هما من محمد بن سيرين، مما يعني أنَّ رواية البيهقي عن محمد بن سيرين، وليس عن أنس بن سيرين، ومما يؤيد ذلك ما في الأمر الثاني: وهو أنَّ البيهقي أخرجه مرة أخرى في "دلائل النبوة" 5/ 441 بإسناده ومتنه، وفيه هنالك: عن ابن سيرين.
📌 اہم نکتہ / خلاصہ: بیہقی نے "دلائل النبوہ" میں اسی سند کو دوبارہ ذکر کیا اور وہاں درست طور پر 'ابن سیرین' لکھا ہے۔
وعلى أية حال فكلاهما ثقة، ولا يضر ذلك في صحة الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: بہرحال، انس اور محمد دونوں بھائی ثقہ ہیں، اس لیے اس وہم سے حدیث کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
وأخرجه أحمد 19/ (12092)، ومسلم (1305) (326)، وأبو داود (1982)، والترمذي (912)، والنسائي (4102)، وابن حبان (3879) من طرق عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، مسلم (1305)، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے سفیان بن عیینہ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 20/ (13164) و (13242) و 21/ (13685)، ومسلم (1305) (323 - 325) ¤ ¤ وأبو داود (1981)، والنسائي (4087)، وابن حبان (1371) من طرق عن هشام بن حسان، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، مسلم، ابوداؤد اور ابن حبان نے ہشام بن حسان کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وقرن أحمد (13685) بهشام بن حسان أيوبَ السختياني.
🧩 متابعات و شواہد: امام احمد نے ہشام بن حسان کے ساتھ ایوب سختیانی کو بھی اس سند میں شامل کیا ہے۔
وأخرج البخاري (171) من طريق ابن عون عن محمد بن سيرين عن أنس: أنَّ رسول الله ﷺ لما حلق رأسه كان أبو طلحة أول من أخذ من شعره.
📖 حوالہ / مصدر: امام بخاری (171) نے ابن عون عن محمد بن سیرین عن انسؓ کی سند سے روایت کیا کہ جب آپ ﷺ نے بال منڈوائے تو ابوطلحہؓ پہلے شخص تھے جنہوں نے آپ ﷺ کے مبارک بال حاصل کیے۔