🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
85. فضل مسجد النبى صلى الله عليه وآله وسلم ومسجده بقباء
مسجدِ نبوی ﷺ اور مسجدِ قباء کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1812
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامِرِي، حدثنا أبو أسامة، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثنا أبو الأبْرَد موسى بن سُلَيم مولى بني خَطْمة (2) ، أنه سَمِعَ أُسَيدَ بن ظُهَيرٍ الأنصاريَّ - وكان من أصحاب النبي ﷺ يحدِّث، عن النبي ﷺ قال:"صلاةٌ في مسجد قُباءٍ كعُمْرة" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إِلَّا أَنَّ أَبا الأبْرَد مجهول.
سیدنا اسید بن ظہیر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسجد قباء میں نماز پڑھنا عمرے کے برابر ثواب رکھتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا مگر ابوالابرد مجہول راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1812]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1812 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرف في النسخ الخطية إلى: قطبة، وصوبناه من مصادر التخريج وكتب التراجم، وقد انفرد المصنف هنا بتسميته موسى بن سليم، خلافًا لشيخه أبي أحمد الحاكم الذي ذكره في "الكنى" فيمن لا يعرف اسمه، وكذلك ابن أبي حاتم وابن حبان، وسماه الترمذي: زيادًا، كما في "جامعه" بإثر الحديث (324)، وتبعه على ذلك المزي في "تهذيب الكمال"، وتعقبه الحافظ ابن حجر في "تهذيب التهذيب" بقوله: وهو وهم، وكأنه اشتبه عليه بأبي الأبرد الحارثي، فإنَّ اسمه زياد كما قال ابن معين وأبو أحمد الحاكم وأبو بشر الدولابي وغيرهم، والمعروف أنَّ أبا الأبرد لا يعرف اسمه.
🔍 فنی نکتہ: خطی نسخوں میں نام "قطبہ" ہو گیا ہے جسے ہم نے درست کیا ہے۔ اس راوی کا نام مصنف نے "موسیٰ بن سلیم" کہا ہے، جبکہ دیگر ائمہ کے نزدیک اس کا نام معلوم نہیں ہے۔ حافظ ابن حجر کے مطابق اسے "زیاد" کہنا وہم ہے۔
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين، فإنَّ أبا الأبرد - وإن لم يرو عنه غير واحد، ولم يؤثر توثيقه عن أحد - فهو تابعي، والراوي عنه من الثقات، ولحديثه هذا شواهد. أبو أسامة: هو حماد بن أسامة.
⚖️ صحیح لغیرہ: یہ روایت صحیح لغیرہ ہے اور یہ سند "حسن" کے درجے کی ہے؛ کیونکہ ابوالابرد تابعی ہیں اور ان کے شاگرد ثقہ ہیں، نیز اس کے شواہد موجود ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ: ابواسامہ سے مراد حماد بن اسامہ ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (1411)، والترمذي (324) من طرق عن أبي أسامة بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1411) اور ترمذی (324) نے ابواسامہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويشهد له حديث أبي أمامة سهل بن حنيف، سيأتي برقم (4325) بإسناد قوي.
🧩 متابعات و شواہد: اس کا شاہد سہل بن حنیفؓ کی حدیث ہے جو آگے نمبر (4325) پر قوی سند کے ساتھ آئے گی۔
وحديث ابن عمر عند ابن حبان (1627)، وإسناده حسن.
🧩 متابعات و شواہد: ابن عمرؓ کی روایت ابن حبان (1627) میں ہے اور اس کی سند "حسن" ہے۔
وحديث أبي سعيد الخدري عند ابن سعد في "الطبقات" 1/ 210.
🧩 متابعات و شواہد: ابوسعید خدریؓ کی روایت ابن سعد کی 'طبقات' میں موجود ہے۔