🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
85. فضل مسجد النبى صلى الله عليه وآله وسلم ومسجده بقباء
مسجدِ نبوی ﷺ اور مسجدِ قباء کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1813
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا محمد بن مِهْران الجَمّال، حدثنا جَرير، عن يحيى بن سعيد، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر قال: كان رسولُ الله ﷺ يُكثِرُ الاختلافَ إلى قُباءٍ ماشيًا وراكبًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء کی طرف جاتے ہوئے کبھی پیدل چلا کرتے اور کبھی سوار ہوتے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1813]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1813 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أحمد بن سلمة: هو ابن عبد الله النيسابوري، وجرير: هو ابن عبد الحميد، ويحيى بن سعيد: هو الأنصاري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: احمد بن سلمہ نیشاپوری، جریر بن عبدالحمید اور یحییٰ بن سعید سے مراد الانصاری ہیں۔
وأخرجه أحمد 8/ (4846) عن يزيد بن هارون، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (8/4846) نے یزید بن ہارون عن یحییٰ بن سعید کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 9/ (5218) و (5329) و (5522) و (5403) و 10/ (5860)، والبخاري (1193) و (7326)، ومسلم (1399) (518 - 522)، والنسائي (779)، وابن حبان (1618) و (1629) و (1630) و (1632) من طرق عن عبد الله بن دينار، به وزاد بعضهم: كلَّ سبت، وزاد بعضهم في آخره: وكان عبد الله ﵁ يفعله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، بخاری (1193)، مسلم (1399)، نسائی اور ابن حبان نے عبداللہ بن دینار کے طریق سے روایت کیا کہ نبی ﷺ ہر ہفتے (مسجد قبا) تشریف لے جاتے تھے؛ بعض نے اضافہ کیا کہ ابن عمرؓ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
وأخرجه أحمد 8/ (4485) و 9/ (5199) و (5219) و (5330) و 10/ (5774) و (6432)، والبخاري (1191) و (1194)، ومسلم (1399) (515 - 517)، وأبو داود (2040)، وابن حبان (1628) من طريق نافع مولى ابن عمر، عن ابن عمر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، بخاری (1191)، مسلم اور ابوداؤد نے نافع مولیٰ ابن عمر کی سند سے بھی روایت کیا ہے۔