المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
87. الدعاء إذا قدم من السفر
سفر سے واپس آنے پر پڑھی جانے والی دعا۔
حدیث نمبر: 1817
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، حدثنا أبو فَرْوة الرُّهَاوي، عن عُرْوة بن رُوَيم اللَّخْمي قال: سمعتُ أبا ثَعْلبة الخُشَنيَّ يقول: قَدِمَ رسولُ الله ﷺ من غَزاةٍ له، فدخل المسجد فصلَّى فيه ركعتين - وكان يُعجبُه إذا قَدِمَ من سفر أن يَدخُلَ المسجد فيصلِّيَ فيه ركعتين (1) ثم يَخرج - فأتى فاطمةَ فبدأ بها فاستَقبَلَته، فجعلَت تُقبِّل وجهَه وعينَيه، فقال لها رسولُ الله ﷺ:"ما يُبكيكِ (2) ؟" قالت: يا رسولَ الله، أراك قد شَحَبَ لونُك، فقال لها رسولُ الله ﷺ:"يا فاطمةُ، إنَّ الله ﷿ بَعَثَ أباكِ بأمرٍ لم يَبْقَ على ظهر الأرض بيتُ مَدَرٍ ولا شَعرٍ إلَّا أدخلَ الله به عزًّا أو ذلًّا، حتى يَبلُغ حيثُ بَلَغَ الليلُ (3) " (4) .
هذا حديث رواته مُجمَعٌ عليهم بأنهم ثقات، إلَّا أبا فروةَ يزيدَ بنَ سِنان. وله شاهدٌ من حديث إبراهيم بن قُعَيْس:
هذا حديث رواته مُجمَعٌ عليهم بأنهم ثقات، إلَّا أبا فروةَ يزيدَ بنَ سِنان. وله شاهدٌ من حديث إبراهيم بن قُعَيْس:
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے واپس آئے تو مسجد میں داخل ہوئے اور اس میں دو نفل ادا کیے اور آپ کو یہ بات بہت پسند تھی کہ آپ جب بھی کسی سفر سے واپس آتے تو (سب سے پہلے) مسجد میں جا کر دو رکعت نوافل ادا کرتے۔ (حسب معمول نوافل ادا کرنے کے بعد) سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے (بہت خندہ پیشانی کے ساتھ) آپ کا استقبال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے اور آنکھوں پر بوسہ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: اے فاطمہ! آپ کو کیا ہوا؟ (آپ پریشان کیوں لگ رہی ہیں) انہوں نے جواب دیا: میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ کا رنگ تبدیل ہو چکا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا: اے فاطمہ! اللہ تعالیٰ نے تیرے والد کو ایسی چیز دے کر بھیجا ہے کہ (روئے زمین کے گوشے گوشے میں حتیٰ کہ) ہر کچے مکان، اور گھاس پھوس کی جھونپڑی میں بھی اللہ تعالیٰ (کچھ لوگوں کو اس کی اطاعت کے سبب سے) عزت دے گا اور (کچھ لوگوں کو نافرمانی کی بنا پر) ذلت دے گا یہاں تک کہ یہ دین وہاں تک پہنچ جائے جہاں رات پہنچتی ہے۔ ٭٭ اس حدیث کے تمام راویوں کے متعلق محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ ثقہ ہیں، سوائے ابوفروہ یزید بن سنان کے۔ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے۔ جو کہ ابراہیم بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1817]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1817 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) من قوله: وكان يعجبه .. " إلى هنا لم يرد في (ص) و (ع)، ووقع فيهما: ثم خرج" بصيغة الماضي.
🔍 فنی نکتہ: عبارت "وكان يعجبه..." نسخہ (ص) اور (ع) سے ساقط ہے۔
(2) تحرف في النسخ الخطية إلى: ما معك، والتصويب من مصادر التخريج.
🔍 فنی نکتہ: خطی نسخوں میں "ما معك" ہو گیا ہے، درست لفظ "ما منعك" (تمہیں کس چیز نے روکا) ہے۔
(3) في النسخ الخطية حيث يبلغ حيث الليل، ولا وجه له.
🔍 فنی نکتہ: خطی نسخوں میں "حيث يبلغ حيث الليل" لکھا ہے جس کا کوئی معنی نہیں بنتا۔
(4) إسناده ضعيف لضعف أبي فروة الرهاوي - واسمه يزيد بن سنان - وقد اضطرب في تعيين شيخه، إذ روي عنه مرة أنه عروة بن رويم - كما هنا - ومرة أخرى روي عنه أنه عقبة بن يريم، وذكرهما مرة جميعًا فقال: عن عروة بن رويم عن عقبة بن يريم - كما سيأتي بيانه في التعليق على الحديث رقم (4790) - وعروةُ بنُ رويم لا بأس به، لكن عقبة بن يريم مجهول، وقال البخاري في "تاريخه الكبير" 6/ 436: في صحة خبره نظر. وقد جزم البخاري بسماع عروة بن رويم من أبي ثعلبة، وأما ابن أبي حاتم وابن عمار الموصلي فجزما بأنه لم يسمع منه، وأنَّ روايته عنه مرسلة.
⚖️ درجۂ حدیث: ابوفروہ الرہاوی کے ضعف کی وجہ سے سند "ضعیف" ہے۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: ابوفروہ نے استاد کے تعین میں اضطراب کیا، کبھی عروہ بن رویم کہا اور کبھی عقبہ بن یریم جو کہ "مجہول" ہے۔ امام بخاری کے نزدیک اس خبر کی صحت میں نظر ہے اور عروہ کا ابو ثعلبہؓ سے سماع بھی اختلافی ہے۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 40/ 230 من طريق أبي بكر الحيري، عن أبي العباس محمد بن يعقوب الأصم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے ابوالعباس الاصم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة في الحج كما في "إتحاف المهرة" (17411) - ومن طريقه أبو نعيم في "الحلية" 2/ 30 و 6/ 123 - من طريق محمد بن أبان، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ اور ابونعیم نے 'حلیہ' (2/30) میں محمد بن ابان کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بحشل في "تاريخ واسط" ص 55 من طريق علي بن مسهر، وابن خزيمة في الحج (إتحاف - 17411)، والطبراني في "الكبير" 22/ (596) من طريق جعفر بن زياد الأحمر، كلاهما عن أبي فروة يزيد بن سنان، به. ورواية علي بن مسهر مختصرة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بحشل نے 'تاریخ واسط' میں علی بن مسہر سے، اور طبرانی نے جعفر بن زیاد الاحمر کے طریق سے ابوفروہ سے روایت کیا ہے۔