🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
87. الدعاء إذا قدم من السفر
سفر سے واپس آنے پر پڑھی جانے والی دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1818
حدَّثَناه أبو الحسين أحمد بن عثمان الأَدَمي المقرئ ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا يحيى بن حمَّاد، حدثنا أبو عَوَانة، حدثنا العلاء بن المسيّب، عن إبراهيم بن قُعَيس، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ كان إذا خَرَجَ في غَزَاةٍ، كان آخرُ عَهدِه بفاطمة، وإذا رَجَعَ من غَزَاةٍ، كان أولُ عهدِه بفاطمة؛ ثم ذَكَرَ باقيَ الحديث بغير هذا اللفظ (1) .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ کے لیے روانہ ہوتے (تو سب سے آخر میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات فرماتے اور جب وہاں سے واپس آتے) تو سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لاتے۔ ٭٭ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اتنا بیان کرنے کے سابقہ حدیث نقل کی ہے تاہم اس کے الفاظ کچھ مختلف ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1818]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1818 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد فيه لين من أجل إبراهيم بن قُعَيس - وهو إبراهيم بن إسماعيل المدني، ويقال: إبراهيم قُعيس - فقد ضعفه أبو حاتم الرازي، وقال يعقوب بن سفيان: هو عندي منكر الحديث، وقال المصنف نفسه في "سؤالات السجزي" له (202): حدّث بأحاديث يسيرة ما فيها حديثٌ إلّا وقد وهم في إسناده ومتنه.
⚖️ حسن لغیرہ: یہ روایت حسن لغیرہ ہے، مگر اس سند میں ابراہیم بن قعیس کے ضعف کی وجہ سے "لین" ہے۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: ابوحاتم اور یعقوب بن سفیان نے ابراہیم کو ضعیف اور منکر الحدیث کہا ہے، اور حاکم کے مطابق وہ سند و متن میں وہم کا شکار ہو جاتے تھے۔
قلنا: لكن ذكره ابن حبان في "الثقات" وصحَّح حديثَه هذا، وترجم له البخاري في "تاريخه الكبير" ولم يجرحه كما قال الحافظ ابن حجر في "اللسان"، وكأنَّ الحافظ مال إلى تحسين أمره، ولهذا حسَّن له حديثًا في "الأمالي المطلقة" ص 221. وقد توبع على شطره الثاني، وله ما يشهد له بتمامه.
🔍 تحقیقی دفاع: تاہم ابن حبان نے انہیں ثقہ کہا اور ابن حجر نے ان کی ایک حدیث کو "حسن" قرار دیا ہے۔ اس روایت کے دوسرے حصے کی متابعت موجود ہے اور پورے متن کے شواہد بھی ملتے ہیں۔
وسيأتي برقم (4792) و (4793).
🔁 تکرار: یہ روایت آگے نمبر (4792) اور (4793) پر آئے گی۔
وأخرج أحمد 8/ (4727)، وأبو داود (4149)، وابن حبان (6353) من طريق فُضيل بن غزوان، عن نافع، عن ابن عمر، في قصة دخوله ﷺ على فاطمة، قال فيها: وقَلّما كان يدخل إلّا بدأ بها. وإسناده صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد، ابوداؤد (4149) اور ابن حبان (6353) نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا کہ نبی ﷺ جب بھی (گھر سے نکلتے یا واپس آتے) تو حضرت فاطمہؓ کے پاس جانے سے شروعات فرماتے تھے۔
ويشهد له بتمامه حديث ثوبان الذي أخرجه أحمد 37/ (22363)، وأبو داود (4213) وغيرهما. وراويه عن ثوبان فيه جهالة، لكن روايته تصلح للشواهد إن شاء الله.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت ثوبانؓ کی حدیث (مسند احمد 37/22363) بھی اس کی تائید کرتی ہے جس کے راوی اگرچہ مجہول ہیں مگر شواہد میں ان کی روایت پیش کی جا سکتی ہے۔