🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. أكثروا ذكر الله حتى يقولوا مجنون
اللہ کا اتنا زیادہ ذکر کرو کہ لوگ کہنے لگیں یہ دیوانہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1862
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمَير، حدثنا أبي، حدثنا موسى بن سالم (1) ، عن عون بن عبد الله بن عُتْبة، عن أبيه، عن النعمان بن بَشِيرٍ قال: قال رسول الله ﷺ:"الذين يَذكُرون مِن جَلالِ الله التحميدَ والتَّسبيحَ والتكبيرَ والتهليلَ، يَتعاطَفْنَ حولَ العرش، لهنَّ دَوِيٌّ كدَوِيِّ النحل، يَقُلنَ (2) لصاحبِهنَّ، [أفلا] يحبُّ [أحدُكم] (3) أن يكون له عندَ الرَّحمن شيءٌ يُذكِّره به" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو لوگ اللہ کا ذکر کرتے ہیں یعنی اس کی بزرگی اور جلال کا اور تسبیح کرتے ہیں اور تکبیر کہتے ہیں اور تہلیل کہتے ہیں، (ان کی یہ تسبیح و تمجید، تکبیر و تہلیل) عرش کے گرد گھومتی ہیں، ان کی گنگناہٹ شہد کی مکھی کی سی ہوتی ہے، وہ اپنے پڑھنے والے سے کہتی ہیں: کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے لیے اللہ کی بارگاہ میں کوئی ایسی چیز ہو جس کے سبب اللہ اس کا ذکر کرے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1862]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1862 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا سماه المصنف هنا، وهو إما وهمٌ منه أو ممن فوقه، أو أنه تحريف في بعض الأصول القديمة، صوابه: موسى بن مسلم، وهو الحزامي أبو عيسى الطحان، يعرف بموسى الصغير. ولم يتنبه الذهبي لهذا الوهم، لذلك تعقب المصنفَ في تصحيحه لهذا الحديث فقال: موسى بن سالم قال أبو حاتم: منكر الحديث.
🔍 فنی نکتہ: مصنف نے یہاں نام "موسیٰ بن سالم" لکھا ہے جو وہم ہے، درست نام "موسیٰ بن مسلم الطحان" (موسیٰ الصغیر) ہے۔ امام ذہبی نے اسی وہم کی وجہ سے اسے منکر کہا۔
(2) كذا في النسخ الخطية، والذي في مصادر التخريج: يذكِّرن، والمعنى واحد، كأنهن يَقُلنَ كلامًا لأجل صاحبهن فيذكِّرن به، والله أعلم.
📝 توضیح: خطی نسخوں کے بجائے دیگر مصادر میں "يذكِّرن" (وہ یاد دلاتی ہیں) کا لفظ ہے، یعنی ذکر کے کلمات اپنے پڑھنے والے کا ذکر اللہ کے حضور کرتے ہیں۔
(3) ما بين معقوفات سقط من نسخنا الخطية، وأثبتناه من المطبوع، إذ لا يستقيم المعنى بدونه، ¤ ¤ وقد جاء كذلك في مصادر التخريج.
🔍 فنی نکتہ: بریکٹ [ ] کے درمیان کی عبارت خطی نسخوں سے ساقط تھی، اسے مطبوعہ نسخوں اور دیگر مصادر سے مکمل کیا گیا ہے۔
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 30/ (18362) عن عبد الله بن نمير، بهذا الإسناد. ووقعت تسمية موسى عنده على الصواب: موسى يعني ابن مسلم الطحان. ووقع عنده في الإسناد شك، ففيه: عن عون بن عبد الله عن أبيه أو عن أخيه عن النعمان بن بشير. وهذا الشك لا يضر في الحكم على الحديث لأنَّ أباه عبد الله وأخاه عبيد الله كلاهما ثقة من رجال الشيخين، والله تعالى أعلم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (30/18362) نے عبداللہ بن نمیر کی سند سے روایت کیا، وہاں موسیٰ کا نام درست (ابن مسلم) ہے اور شک کے باوجود حدیث صحیح ہے کیونکہ دونوں احتمالی راوی ثقہ ہیں۔
وسيأتي الحديث برقم (1876).
🔁 تکرار: یہ حدیث دوبارہ نمبر (1876) پر آئے گی۔