🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. الاستغفار والتوبة مائة مرة فى اليوم
روزانہ سو مرتبہ استغفار اور توبہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1903
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن سلَّام، حدثنا قَبِيصَةُ، حدثنا سفيان. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيانُ، عن أبي إسحاق، عن عُبيدٍ أبي المغيرة، عن حذيفةَ قال: كنتُ ذَرِبَ اللسانِ على أهلي، قلتُ: يا رسول الله، قد خشيتُ أن يُدخِلَني لساني النارَ؟ قال:"فأينَ أنتَ من الاستغفار؟ إنِّي لأستغفرُ الله في اليوم مئةَ مرَّة". قال أبو إسحاق: فذكرتُ ذلك لأبي بُرْدة، فقال:"وأتوبُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا، إنَّما أخرج مسلم حديث أبي بُردةَ، عن الأغرِّ المُزْني، عن النبي ﷺ:"إنه لَيُغانُ على قلبي، وإنِّي لأستغفرُ الله في اليوم مئةَ مرة". وكذلك حديثُ نافع، عن ابن عمر: إِنْ كُنَّا لَنَعُدَّ لرسولِ الله ﷺ (2) .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میری زبان میرے گھر والوں پر تلخ تھی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ڈر ہے کہ میری زبان مجھے آگ میں نہ لے جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم استغفار کیوں نہیں کرتے؟ میں تو دن میں سو مرتبہ اللہ سے بخشش مانگتا ہوں۔ ابواسحاق کہتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر ابوبردہ سے کیا تو انہوں نے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں) یہ اضافہ کیا: اور میں توبہ کرتا ہوں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، امام مسلم نے ابوبردہ کی روایت الاغر المزنی سے نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے دل پر بھی بوجھ آ جاتا ہے اور میں دن میں سو بار استغفار کرتا ہوں، اسی طرح نافع کی ابن عمر سے روایت بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1903]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين كسابقه. قبيصة: هو ابن عقبة، وعبد الرحمن: هو ابن مهدي، وسفيان: هو الثوري، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السبيعي، وأبو بردة المذكور بإثر الحديث: هو ابن أبي موسى الأشعري.» [ترقيم الرساله 1903] [ترقيم الشركة 1888]

الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين كسابقه. قبيصة: هو ابن عقبة
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1903 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده محتمل للتحسين كسابقه. قبيصة: هو ابن عقبة، وعبد الرحمن: هو ابن مهدي، وسفيان: هو الثوري، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السبيعي، وأبو بردة المذكور بإثر الحديث: هو ابن أبي موسى الأشعري.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند پچھلی روایت کی طرح "حسن" ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔ قبیصہ: یہ ابن عقبہ ہیں، عبدالرحمن: یہ ابن مہدی ہیں اور ابوبردہ: یہ ابوموسیٰ اشعری کے بیٹے ہیں۔
وهو في "مسند أحمد" 38/ (23371).
📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث "مسند احمد" 38/ (23371) میں موجود ہے۔
وأخرجه النسائي (10212) عن عمرو بن علي الفلاس، وابن حبان (926) من طريق أبي خيثمة، كلاهما عن عبد الرحمن بن مهدي، به. ولم يذكر عمرو بن علي رواية أبي إسحاق عن أبي بردة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی اور ابن حبان نے عبدالرحمن بن مہدی کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر عمرو بن علی نے اس میں ابواسحاق کی ابوبردہ سے روایت کا ذکر نہیں کیا۔
وأخرجه أحمد (23421) عن وكيع، والنسائي (10213) من طريق مخلد بن يزيد، كلاهما عن سفيان الثوري، به. لم يذكرا رواية أبي إسحاق عن أبي بردة أيضًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے وکیع سے اور نسائی نے مخلد بن یزید سے (دونوں ثوری سے) روایت کیا ہے، انہوں نے بھی ابوبردہ کا ذکر نہیں کیا۔
وطريق أبي بردة هذه اختلف فيها عليه، فرواه بعضهم عنه مرسلًا، ورواه بعضهم عنه عن أبي موسى الأشعري، والمحفوظ عنه عن الأغر المزني، انظر تفصيل ذلك في تعليقنا على "مسند أحمد" 32/ (19672) و 38/ (23340).
⚠️ سندی اختلاف: ابوبردہ کے طریق میں اختلاف ہوا ہے؛ بعض نے اسے مرسل اور بعض نے حضرت ابوموسیٰ سے روایت کیا، مگر محفوظ یہ ہے کہ یہ "اغر مزنی" سے مروی ہے۔
(2) حديث الأغر المزني عند مسلم برقم (2702)، وأما حديث ابن عمر فليس عنده كما يُوهم ظاهر كلام المصنف، وإنما هو مخرَّج في "السنن" وغيرها كما في تعليقنا على الحديث السابق.
📝 توضیح: اغر مزنی کی حدیث صحیح مسلم (2702) میں ہے، مگر ابن عمر کی حدیث مسلم میں نہیں ہے (جیسا کہ حاکم کی عبارت سے وہم ہوتا ہے) بلکہ وہ سنن میں ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1903 in Urdu