🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
79. الدعاء الجامع الذى يختم به المجلس
وہ جامع دعا جس سے مجلس کا اختتام کیا جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1955
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جَدّي، حدثنا أبو صالح كاتبُ الليث بن سعد، حدثني الليث بن سعد، أنَّ خالد بن أبي عِمران حدَّث عن نافع، عن ابن عمر: أنه لم يكن يجلسُ مَجلسًا، كان عنده أحدٌ أو لم يكن، إلَّا قال: اللهمَّ اغفِرْ لي ما قدّمتُ وما أخّرتُ، وما أسرَرتُ وما أعلَنتُ، وما أنت أعلمُ به منِّي، اللهمَّ ارزُقني من طاعتِك ما تَحُول بيني وبين مَعصيتِك، وارزُقْني من خَشيتِك ما تُبلِّغُني به رحمتَك، وارزُقْني من اليقين ما تُهوِّنُ به عليَّ مصائبَ الدنيا، وباركْ لي في سَمْعي وبَصَري، واجعلهُما الوارثَ مني، اللهمَّ اجعَلْ ثَأْري (2) ممَّن ظَلَمني، وانصُرْني على من عاداني، ولا تجعل الدنيا أكبرَ هَمِّي، ولا مَبلَغَ عِلمي، اللهمَّ ولا تُسلِّطْ عليَّ مَن لا يَرحمُني. فسُئِلَ عنهنَّ ابنُ عمر، فقال: كان رسولُ الله ﷺ يَختِمُ بهنّ مَجلِسَه (3) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ کسی بھی مجلس میں بیٹھتے، خواہ وہاں کوئی اور ہوتا یا نہ ہوتا، وہ یہ دعا ضرور مانگتے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي مِنْ طَاعَتِكَ مَا تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَعْصِيَتِكَ، وَارْزُقْنِي مِنْ خَشْيَتِكَ مَا تُبَلِّغُنِي بِهِ رَحْمَتَكَ، وَارْزُقْنِي مِنَ الْيَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيَّ مَصَائِبَ الدُّنْيَا، وَبَارِكْ لِي فِي سَمْعِي وَبَصَرِي، وَاجْعَلْهُمَا الْوَارِثَ مِنِّي، اللَّهُمَّ اجْعَلْ ثَأْرِي مِمَّنْ ظَلَمَنِي، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ عَادَانِي، وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّي، وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِي، اللَّهُمَّ وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ مَنْ لَا يَرْحَمُنِي» اے اللہ! میرے وہ گناہ معاف فرما جو میں نے پہلے کیے اور جو بعد میں کیے، جو چھپ کر کیے اور جو علانیہ کیے، اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، اے اللہ! مجھے اپنی ایسی اطاعت نصیب فرما جو میرے اور تیری نافرمانی کے درمیان حائل ہو جائے، اور مجھے اپنا ایسا ڈر عطا فرما جو مجھے تیری رحمت تک پہنچا دے، اور مجھے ایسا یقین عطا فرما جس کے ذریعے تو مجھ پر دنیا کی مصیبتیں آسان کر دے، میری سماعت اور بصارت میں برکت عطا فرما اور انہیں میرا وارث بنا دے، اے اللہ! میرا بدلہ اس سے لے جس نے مجھ پر ظلم کیا، اور اس کے خلاف میری مدد فرما جس نے مجھ سے دشمنی کی، اور دنیا کو میرا سب سے بڑا مقصد اور میرے علم کی انتہا نہ بنا، اے اللہ! مجھ پر اسے مسلط نہ کر جو مجھ پر رحم نہ کرے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ان کلمات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مجلس کا اختتام انہی کلمات پر فرمایا کرتے تھے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1955]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسنٌ في المتابعات والشواهد من أجل أبي صالح كاتب الليث - وهو عبد الله بن صالح بن محمد المصري - وقد تابعه اثنان لا بأس بروايتهما أيضًا في المتابعات والشواهد، فيصح الحديثُ إن شاء الله.» [ترقيم الرساله 1955] [ترقيم الشركة 1940]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1955 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في (ص) و (ع): وخذ ثأري، مع فصل بين الكلمتين ببياض، وتحرَّف في (ز) و (ب) إلى: وعل ثأري، والمثبت من "تلخيص الذهبي" ومن "الدعوات" للبيهقي (244) حيث روى هذا الحديث عن المصنِّف بإسناده ومتنه.
📝 توضیح: نسخوں میں "وخذ ثأري" کے الفاظ میں کچھ تحریف اور خالی جگہیں تھیں، جن کی تصحیح امام ذہبی کی "تلخیص" اور بیہقی کی "الدعوات" سے کی گئی ہے۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسنٌ في المتابعات والشواهد من أجل أبي صالح كاتب الليث - وهو عبد الله بن صالح بن محمد المصري - وقد تابعه اثنان لا بأس بروايتهما أيضًا في المتابعات والشواهد، فيصح الحديثُ إن شاء الله.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔ لیث کے کاتب (عبداللہ بن صالح) کی وجہ سے یہ سند متابعات میں "حسن" ہے، اور دیگر دو راویوں کی متابعت سے یہ حدیث "صحیح" ہو جاتی ہے۔
وأخرجه النسائي (10161) من طريق بكر بن مضر، عن عبيد الله بن زَحْر، عن خالد بن أبي عمران، به. وعُبيد الله بن زَحْر فيه ضعف، لكنه صالحٌ في المتابعات والشواهد.
📖 حوالہ / مصدر: امام نسائی نے اسے عبید اللہ بن زحر کی سند سے روایت کیا ہے، جو اگرچہ ضعیف ہیں مگر متابعات میں ان کی روایت لی جاتی ہے۔
وأخرجه الترمذي (3502)، والنسائي (10162) من طريق يحيى بن أيوب الغافقي، عن عُبيد الله بن زَحْر، عن خالد بن أبي عمران، أنَّ ابن عمر قال، وذكره. كذا لم يذكر في إسناده نافعًا مولى ابن عمر، ولم يسمع خالد من ابن عمر كما قال المزي، ورواية يحيى بن أيوب - وهو صدوق - بإسقاط نافع شاذَّة. ¤ ¤ ورواه عبد الله بن لهيعة عن خالد بن أبي عمران عند الطبراني في "الصغير" (866)، وفي "الدعاء" (1911)، وتمام الرازي في "فوائده" (505)، فذكر نافعًا مولى ابن عمر.
⚠️ سندی اختلاف: امام ترمذی اور نسائی کی ایک روایت میں نافع کا ذکر نہیں ہے، مگر خالد بن ابی عمران کا براہِ راست ابن عمرؓ سے سماع نہیں ہے۔ لہٰذا نافع کے ذکر والی روایت ہی محفوظ ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1955 in Urdu