المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. لا يجوز بيعان فى بيع ، ولا بيع ما لا يملك ، ولا سلف وبيع ، ولا شرطان فى بيع .
ایک ہی سودا میں دو سودے جائز نہیں، نہ اس چیز کی بیع جو ملکیت میں نہ ہو، نہ قرض کے ساتھ بیع، اور نہ ایک بیع میں دو شرطیں۔
حدیث نمبر: 2220
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب ويوسف بن يعقوب، قالا: حدثنا عمرو بن مرزوق، أخبرنا شعبة، عن زيدٍ العَمِّي، عن أبي الصِّدِّيق الناجِيّ، عن أبي سعيد الخُدْري، قال: كنا نبيعُ أمهاتِ الأولاد على عهدِ رسول الله ﷺ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2190 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2190 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں امہات الاولاد کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2220]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف زيد العَمّي: وهو ابن الحواري أبو الصِّدّيق الناجي: هو بكر بن عمرو، ويقال: ابن قيس.» [ترقيم الرساله 2220] [ترقيم الشركة 2202] [ترقيم العلميه 2190]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف زيد العَمّي: وهو ابن الحواري أبو الصِّدّيق الناجي: هو بكر بن عمرو
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2220 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف زيد العَمّي: وهو ابن الحواري أبو الصِّدّيق الناجي: هو بكر بن عمرو، ويقال: ابن قيس.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے کیونکہ زید العمی (ابن الحواری) ضعیف ہے 📝 توضیح: ابو صدیق الناجی سے مراد بکر بن عمرو ہیں، جنہیں ابن قیس بھی کہا جاتا ہے۔
وأخرجه أحمد 17/ (11164)، والنسائي (523) من طريقين عن شعبة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (17/ 11164) اور نسائی (523) نے شعبہ کے دو طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2220 in Urdu