المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
36. من أنظر معسرا ووضع له ، أظله الله فى ظله
جو تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے، اللہ اسے اپنے سائے میں جگہ دے گا۔
حدیث نمبر: 2255
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا محمد ابن عبّاد المكي، حدثنا حاتم بن إسماعيل، عن أبي حَزْرة يعقوب بن مجاهد، عن عُبادة بن الوليد بن عبادة بن الصامت: قال خرجت أنا وأبي نطلب العلم في هذا الحيّ من الأنصار قبل أن يهلِكُوا، فكان أولَ من لَقِينا أبو اليَسَر صاحبُ رسولِ الله ﷺ ومعه غُلامٌ له، وعليه بُردٌ ومَعافِريّ، وعلى غلامه بُرْدٌ ومَعافِريّ (1) ، ومعه إضبارة (2) صُحُف، فقال له أبي: كأني أرى في وجهك سُفْعةً من غَضَب. قال: أجلْ، كان لي على فلانِ بن فلانٍ الحَراميّ (3) مالٌ، فأتيتُ أهلَه، فقلت: أثَمَّ هو؟ قالوا: لا، فخرج ابنٌ له، فقلت له: أين أبوك؟ قال: سمع كلامَك، فدخل أريكةَ أمي، فقلت: اخرُجْ، فقد علمتُ أين أنتَ، فخرج إليَّ، فقلتُ له: ما حَمَلك على أنِ اختبأتَ مني؟ قال: أنا واللهِ أُحدّثُك ولا أَكذِبُك، خشيتُ واللهِ أن أُحَدِّثَك فأَكذِبَك، أو أعِدَك فأُخلِفَك، وكنتَ صاحبَ رسولِ الله ﷺ، وكنتُ واللهِ مُعسرًا، فقلتُ: آللهِ، قال: آللهِ، قال: فقلتُ: آللهِ، قال: آللهِ، قال: فنشر الصحيفةَ ومَحَا الحقَّ، وقال: إن وجدتَ قضاءً فاقضِ، وإلّا فأنتَ في حِلٍّ، فأشهَدُ لبَصُرَتْ عيناي هاتان - ووضع إصبعيه على عينيه - وسمعَتْه أذناي هاتان - ووضع إصبعيه في أذنيه - ووَعَاه قلبي - وأشار إلى نِيَاط قلبه - رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن أَنظَر مُعسِرًا أو وَضَعَ له، أظلَّه اللهُ في ظِلّه" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وكذلك روي مختصرًا عن زيد بن أسلم (1) ورِبْعي بن حِراش (2) وحَنْظلة بن قيس (3) ، كلهم عن أبي اليَسَر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2224 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وكذلك روي مختصرًا عن زيد بن أسلم (1) ورِبْعي بن حِراش (2) وحَنْظلة بن قيس (3) ، كلهم عن أبي اليَسَر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2224 - على شرط مسلم
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: میں اور میرے والد انصار کے اس قبیلے میں ان کے ہلاک ہونے سے پہلے طلب علم کی غرض سے آئے، ہماری سب سے پہلی ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ابوالیسر سے ہوئی۔ ان کے ساتھ ان کا بیٹا تھا۔ ان پر اور ان کے لڑکے پر خاکستری رنگ کی چادر تھی اور ان کے پاس کپڑوں کا ایک گٹھا تھا۔ میرے والد نے ان سے پوچھا: کیا بات ہے؟ آپ کا چہرہ غصے سے سرخ کیوں ہو رہا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں فلاں بن فلاں حرامی کے ذمے میرا کچھ مال تھا۔ میں اس کے گھر گیا اور پوچھا: کیا وہ گھر میں ہے؟ گھر والوں نے جواب دیا: نہیں۔ پھر اس کا بیٹا باہر نکلا، میں نے اس سے پوچھا: تیرا باپ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: وہ آپ کی آواز سن کر میری امی کے پلنگ کے نیچے گھس گیا ہے۔ میں نے آواز لگائی کہ باہر نکلو کیونکہ مجھے سب معلوم ہے کہ تم کہاں ہو۔ پھر وہ باہر نکل کر آیا تو میں نے اس سے کہا: کیا وجہ ہے؟ تو مجھ سے یوں چھپتا کیوں پھرتا ہے؟ اس نے کہا: خدا کی قسم! میں جو بھی کہوں گا، سچ کہوں گا اور تیرے ساتھ جھوٹ نہیں بولوں گا۔ خدا کی قسم! مجھے یہ خدشہ تھا کہ اگر میں تیرے ساتھ ہم کلام ہوا تو جھوٹ بولنا پڑے گا یا وعدہ کرنا پڑے گا جو میں پورا نہ کر سکوں گا حالانکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی ہوں۔ میں نے کہا: کیا تم اللہ کی قسم کھا کر یہ بات کہہ رہے ہو؟ کہ تم واقعی تنگ دست ہو۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں تنگدست ہوں۔ میں نے پھر اس کو اللہ کی قسم دلائی، اس نے پھر قسم کھا لی (عبادہ) فرماتے ہیں۔ پھر اس نے رجسٹر نکالا اور اس کا حق مٹا دیا اور کہا: اگر تیرے پاس قرضہ کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز ہے تو دے دو ورنہ جب ادا کر سکو، کر دینا۔ پھر انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں آنکھوں پر رکھ کر کہا: میری یہ دونوں آنکھیں گواہ ہیں اور اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال کر کہا: میرے ان دونوں کانوں نے سنا ہے اور اپنے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اور میرے دل نے اس کو یاد کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی تنگدست کو مہلت دے گا اور اس کو معاف کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سایہ (رحمت) میں جگہ دے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ یونہی یہ حدیث زید بن اسلم اور ربعی بن میراش اور حنظلہ بن قیس نے ابوالیسر سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2255]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2255 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) المَعَافريُّ: ثياب تُعمل بقرية يقال لها: مَعَافِر، وقيل: هي نسبة إلى قبيلة نزلت تلك القرية، وهي بفتح الميم. والبُرْد: شَمْلة مخططة، وقيل: كساء مربّع فيه صِغَر يلبسه الأعراب.
📝 توضیح: "المَعَافری" ایک گاؤں معافر کے بنے ہوئے کپڑوں کو کہتے ہیں 📌 لغوی تشریح: "البُرد" ایک دھاری دار چادر کو کہتے ہیں جو اعرابی پہنا کرتے تھے۔
(2) الإضبارة: الحُزمة.
📝 توضیح: "الاضبارہ" کا مطلب ہے گٹٹھا یا بنڈل۔
(3) الحراميّ: نسبة إلى بني حَرَام.
📝 توضیح: "الحرامی" سے مراد بنی حرام قبیلے کی طرف نسبت ہے۔
(4) إسناده صحيح. أبو اليَسَر: هو كعب بن عمرو السَّلَمي.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے 📝 توضیح: ابوالیسر سے مراد صحابیِ رسول کعب بن عمرو السلمی ہیں۔
وأخرجه مسلم (3006) عن هارون بن معروف ومحمد بن عبّاد - واللفظ لهارون - عن حاتم، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے صحیح مسلم (3006) میں حاتم کی سند سے روایت کیا گیا ہے، لہٰذا حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کی ذہانت سے فروگزاشت (بھول) ہے۔
وأخرجه ابن حبان (5044) من طريق عمرو بن زرارة، عن حاتم بن إسماعيل، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (5044) نے عمرو بن زرارہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
الأريكة: السرير المُرخَى عليه السَّتْر.
📝 توضیح: "الاریکہ" (مسند) ایسے بستر یا تخت کو کہتے ہیں جس پر پردہ لٹکا ہوا ہو۔
ونِياط القلب: عِرْق غليظ عُلِّق به القلب بالرئتين.
📝 توضیح: "نِیاط القلب" دل کی وہ موٹی رگ ہے جس کے ذریعے دل پھیپھڑوں سے جڑا ہوتا ہے۔
(1) أخرجه من طريقه الواحدي في "التفسير الوسيط" 1/ 399، لكن زيد بن أسلم يُستبعد جدًّا إدراكه لأبي اليَسَر، فبين وفاتيهما واحد وثمانون عامًا.
🔍 علّت / فنی نکتہ: اسے الواحدی نے روایت کیا ہے لیکن زید بن اسلم کا ابوالیسر سے ملنا بعید ہے کیونکہ ان کی وفات کے درمیان 81 سال کا فرق ہے۔
(2) أخرجه من طريقه أحمد 24/ (15521)، وإسناده صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (24/ 15521) نے روایت کیا ہے اور اس کی سند "صحیح" ہے۔
(3) أخرجه من طريقه أحمد 24/ (15520)، وابن ماجه (2419)، وإسناده حسن في المتابعات.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابن ماجہ (2419) نے روایت کیا ہے، اس کی سند متابعات میں "حسن" ہے۔