المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
92. حكم قبول الهدايا
تحائف قبول کرنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 2396
أخبرني أبو الحُسين محمد بن أحمد القَنْطَري ببغداد وأبو أحمد بكر بن محمد الصَّيْرفي بمَرْو، قالا: حدثنا أبو قِلابة وأخبرني أبو عمرو بن نُجَيد، حدثنا أبو مُسلم؛ قالا: حدثنا أبو عاصم، عن ابن عَجْلان، عن المقبُري، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا أهدى إلى رسول الله ﷺ لِقْحة، فأثابَه منها بستِّ بَكَرات، فتسخَّطها الرجلُ، فقال رسول الله ﷺ:"مَن يَعذِرُني مِن فلانٍ، أَهدى إلي لِقْحةً، فكأني أنظُر إليها في وَجْه بعضِ أهلِه، فأثَبْتُه منها بسِتِّ بَكَرَاتٍ فتَسخَّطَها، لقد هممتُ أن لا أقبل هَديّةً إلّا أن تكونَ من قُرشيٍّ أو أنصارِيٍّ أو ثَقَفيٍّ أو دَوْسِيّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2365 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2365 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی تحفہ دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بدلے میں اس کو چھ اونٹ دئیے وہ شخص اتنے پر راضی نہ ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں شخص کی طرف سے مجھے کون عذر بیان کرے گا، جس نے مجھے ایک اونٹنی تحفہ دی تھی اور میں نے اس کے گھرانے کے کچھ لوگوں کی (حالت زار) طرف دیکھتے ہوئے اس کو چھ اونٹ بدلے میں دیئے لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہے، میں یہ سوچ رہا ہوں کہ میں صرف قریشی، انصاری، ثقفی یا دوسی سے تحفہ قبول کروں گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2396]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2396 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل ابن عجلان - وهو محمد - وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: "حدیث صحیح" ہے، اور محمد بن عجلان کی وجہ سے سند "قوی" ہے، نیز اس کے متابعات بھی موجود ہیں۔
وأخرجه مختصرًا أحمد 12/ (7363) عن سفيان بن عيينة، والنسائي (6558) من طريق معمر بن راشد، كلاهما عن ابن عجلان، به.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد اور نسائی نے اسے ابن عجلان کے طریق سے مختصراً روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 13/ (7918) من طريق أبي معشر نجيح السِّنْدي، والترمذي (3945) من طريق أيوب بن أبي مسكين كلاهما عن سعيد المقبري، به. وتابعهما مسعر بن كدام عند ابن أبي شيبة 12/ 201.
🧩 متابعات و شواہد: ابو معشر السندی اور ایوب بن ابی مسکین نے بھی اسے سعید المقبری سے روایت کیا ہے، اور مسعر بن کدام نے ان کی تائید کی ہے۔
وأخرجه أبو داود (3537)، والترمذي (3946) من طريق محمد بن إسحاق، عن سعيد المقبري، عن أبيه، عن أبي هريرة، وصرَّح ابن إسحاق بسماعه عند إبراهيم الحربي في "غريب الحديث" 3/ 917.
📖 حوالہ / مصدر: ابوداؤد اور ترمذی نے محمد بن اسحاق کے طریق سے روایت کیا ہے، اور ابن اسحاق نے اپنے سماع کی صراحت کر دی ہے۔
وقد سمع سعيد المقبري وأبوه من أبي هريرة، وسمع سعيد من أبيه عن أبي هريرة كذلك، فلا يبعد أن يكون سعيد سمعه مرة بواسطة أبيه ومرة سمعه من أبي هريرة مباشرة، فيكون الإسنادان صحيحين، والله أعلم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: سعید المقبری نے براہِ راست حضرت ابوہریرہ سے بھی سنا ہے اور اپنے والد کے واسطے سے بھی، لہٰذا دونوں طرح کی سندیں (براہِ راست اور بالواسطہ) صحیح ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (6383) من طريق أبي سلمة، عن أبي هريرة مختصرًا.
📖 حوالہ / مصدر: ابن حبان نے اسے ابو سلمہ عن ابی ہریرہ کے طریق سے مختصراً روایت کیا ہے۔
والبَكَرات: جمع بَكْرة، وهي الأنثى من الإبل.
📝 لغوی تشریح: "بکرات" بکرہ کی جمع ہے، جو نوجوان اونٹنی کو کہا جاتا ہے۔
واللِّقْحة، بالكسر والفتح: الناقة القريبة العهد بالنِّتاج.
📝 لغوی تشریح: "لقحہ" اس اونٹنی کو کہتے ہیں جس نے حال ہی میں بچہ دیا ہو (دودھل اونٹنی)۔
وقوله: "من يَعذِرُني من فلان"، أي: من يقوم بعُذْري إذا جازَيتُه بصُنْعه فلا يلُومُني على ما أفعلُه به.
📝 لغوی تشریح: "من یعذرنی من فلان" کا مطلب ہے: کون ہے جو میری طرف سے عذر پیش کرے گا (یعنی میرا ساتھ دے گا) اگر میں اس شخص کو اس کی بدسلوکی کا بدلہ دوں، تاکہ کوئی مجھے ملامت نہ کرے۔