المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
93. الدعاء عند اللباس الجديد
نیا کپڑا پہننے کی دعا۔
حدیث نمبر: 2398
حدثنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا أبو مُسلم، حدثنا أبو الوليد، حدثنا إسحاق بن سعيد، حدثنا أبي، حدثتني أم خالد بنت خالد، قالت: أُتي النبيُّ ﷺ بثيابٍ فيها خَمِيصةٌ سوداء صغيرة، فقال:"مَن تَرَون أكسُو هذه؟" فسكتَ القومُ، فقال رسول الله ﷺ:"ائتُوني بأمِّ خالدٍ" قالت: فأُتِي بي فألبَسَنِيها بيده، وقال:"أَبْلِي وأخْلِفي (1) " يقولها مرتين، وجعل ينظُر إلى عَلَمٍ في الخَمِيصة أصفرَ وأحمرَ، ويقول:"يا أمَّ خالدٍ، هذا سَنَا" (1) . والسَّنا بلِسان الحَبَشة: الحَسَن.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2367 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2367 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کچھ کپڑے پیش کیے گئے، جن میں کالے رنگ کی ایک چھوٹی چادر بھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے؟ میں یہ کس کو پہناؤں گا؟ لوگ خاموش رہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس اُم خالد کو بلاؤ (ام خالد) کہتی ہیں: مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے وہ چادر مجھے اوڑھائی اور فرمایا: اس کو (استعمال کر کے) پرانی اور بوسیدہ کر دو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات دو مرتبہ کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس چادر میں سبز اور زرد رنگ کے نقش و نگار کو دیکھتے ہوئے فرمانے لگے: اے اُم خالد! یہ ” سنا “ ہے، یہ ” سنا “ ہے۔ حبشی زبان میں ” سنا “ کا مطلب ” خوبصورت “ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2398]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2398 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا أعجمت في (ز) بالفاء، وفي بقية النسخ الخطية: "وأخلقي" بالقاف، قال ابن حجر في "فتح الباري" 18/ 57 - 58: بالفاء أوجه من التي بالقاف، لأنَّ التي بالقاف تستلزم التأكيد، ¤ ¤ إذ الإبلاء والإخلاق بمعنًى، لكن جاز العطف لتغاير اللفظين، والثانية - يعني التي بالفاء - تفيد معنًى زائدًا، وهو أنها إذا أبلتْه أخلفت غيره، ويؤيده ما أخرجه أبو داود (4020) بسند صحيح عن أبي نَضْرة قال: كان أصحاب رسول الله ﷺ إذا لبس أحدهم ثوبًا جديدًا قيل له: تُبلِي ويُخلِفُ الله.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) میں "وأخلفی" (ف کے ساتھ) ہے جو کہ حافظ ابن حجر کے نزدیک زیادہ بہتر ہے، کیونکہ اس کا مطلب ہے "اللہ اس کا نعم البدل دے گا"۔ جبکہ "ق" کے ساتھ اس کا مطلب "پرانا کرنا" ہوتا ہے۔
(1) إسناده صحيح. أبو مسلم: هو إبراهيم بن عبد الله الكجّي، وأبو الوليد: هو هشام بن عبد الملك الطيالسي، وإسحاق بن سعيد: هو ابن عمرو بن سعيد بن العاص.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ اور مشہور ہیں۔
وأخرجه البخاري (5845) عن أبي الوليد الطيالسي، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت صحیح بخاری (5845) میں اسی سند سے موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 44/ (27057)، وأبو داود (4024) من طريق أبي النضر هاشم بن القاسم، عن إسحاق بن سعيد، به.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد اور ابوداؤد نے اسے ہاشم بن القاسم کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري (3071) و (5993) من طريق عبد الله بن المبارك، عن خالد بن سعيد - وهو أخو إسحاق بن سعيد - عن أبيه، به. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: چونکہ یہ پہلے ہی بخاری (3071) میں موجود ہے، اس لیے امام حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کی لغزش ہے۔
وسيأتي من طريق سفيان بن عيينة عن إسحاق بن سعيد برقم (4294).
📝 نوٹ / توضیح: سفیان بن عیینہ کے طریق سے یہ رقم (4294) پر آئے گی۔
ومن طريق الحسن بن بشر عن إسحاق برقم (7579).
📝 نوٹ / توضیح: حسن بن بشر کے طریق سے رقم (7579) ملاحظہ کریں۔
وسيأتي كذلك من طريق عبد الله بن عمر بن أبان عن خالد بن سعيد أخي إسحاق برقم (5168) لكنه قال فيه: عن أبيه، عن عمه خالد بن سعيد الأكبر أنه قدم على رسول الله ﷺ، فذكره، وجعله من مسند خالد بن سعيد. ولم يدرك سعيدُ بن عمرو عمَّه خالد بن سعيد، ففيه انقطاع كما قال الذهبي في "التلخيص" وابن حجر في "إتحاف المهرة" (4438).
🔍 فنی نکتہ / علّت: رقم (5168) پر آنے والی روایت میں "انقطاع" ہے (سند ٹوٹی ہوئی ہے) کیونکہ سعید بن عمرو نے اپنے چچا خالد بن سعید کو نہیں پایا۔
والخَميصة: ثوب من خزٍّ أو صوف مُعْلَم، وقيل: لا تُسمَّى خميصةً إلّا أن تكون سوداء معلمة وكانت من لباس الناس قديمًا.
📝 لغوی تشریح: "خمیصہ" ریشمی یا اونی دھاری دار چادر کو کہتے ہیں، عموماً یہ کالی اور نقش و نگار والی ہوتی تھی۔
والعَلَم: العلامة من طراز وغيره.
📝 لغوی تشریح: "علم" سے مراد کپڑے پر بنے ہوئے نقش و نگار یا بارڈر (طراز) ہیں۔